ملتان، ٹرمپ کا نہیں قائداعظم کا پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علامہ قاضی نادر حسین علوی نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین اسرائیل کو تسلیم کرنے والی کسی بھی سرگرمی میں مزاحمت کرے گی، یہ ایک گھناونا کھیل ہے، جو کھیلا جا رہا ہے، جسے ہرگز نہیں کھیلنے دیں گے، ٹرمپ ہمیشہ سے اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہے، لہذا یہ نہیں ہوسکتا، ہم ٹرمپ کے ایجنڈے کے حامی بنیں۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی و صوبائی قائدین کی ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی و صوبائی قائدین کی ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی و صوبائی قائدین کی ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی و صوبائی قائدین کی ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی و صوبائی قائدین کی ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی و صوبائی قائدین کی ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی و صوبائی قائدین کی ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس
اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان عزاداری ونگ کے مرکزی صدر علامہ اقتدار حسین نقوی، جنوبی پنجاب کے صوبائی آرگنائز علامہ قاضی نادر حسین علوی، علامہ غلام مصطفیٰ انصاری، سلیم عباس صدیقی، یافث نوید ہاشمی ایڈووکیٹ نے مظلوم فلسطینیوں کی امنگوں کے برخلاف پاکستان حکومت کی جانب سے امریکی غزہ پلان کی حمایت کے خلاف ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ایک غاصب اور ناجائز ریاست ہے، جسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ نہ صرف اسرائیلی جرائم میں برابر کا شریک ہے بلکہ ہر مرتبہ جنگ بندی اور انسانی ہمدردی کی قراردادوں کو ویٹو کرکے مظلوم فلسطینی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ منصوبہ دراصل بدنام زمانہ "ڈیل آف سنچری" ہی کی نئی شکل ہے، جسے کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ یہ افسوسناک امر ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے ٹرمپ کا منصوبہ مکمل طور پر پیش ہونے سے پہلے ہی اس کی تائید کر ڈالی اور بانی پاکستان کے اسرائیل کو ناجائز ریاست کہنے کے تاریخی قول کی نفی کر دی، جو دراصل اسرائیل کو بالواسطہ تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی بیس نکاتی ایجنڈے میں اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے ایک لفظ بھی موجود نہیں، کیا ہم کشمیر کے حوالے سے ایسے مسودے کو تسلیم کریں گے؟، ہم فلسطین کے حوالے سے قائداعظم کے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، دو ریاستی حل فلسطینیوں کی آواز نہیں ہے، جن لوگوں کو قائداعظم کا پاکستان منظور نہیں ہے، وہ مہربانی فرما کر جس ملک کو اچھا سمجھتے ہیں، وہیں چلے جائیں، یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، یہ ٹرمپ کا نہیں قائداعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان ہے، ہم اسرائیل کے مخالف ہیں اور رہیں گے، ہم فلسطینیوں کے ساتھ ہیں، ہم ظالم کے ساتھ نہیں، مظلوم کے ساتھ ہیں۔ نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں صحافیوں پر بہیمانہ تشدد کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں، جب اپنے شہریوں کے ساتھ یہ رویہ ہو تو ہم دنیا کو کس منہ سے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر آواز بلند کر سکتے ہیں،؟ یہ غیر قانونی اور غیر آئینی حکومت ہے اور ہارا ہوا یہ لشکر بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر عام عوام پر ظلم پر اتر آیا ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔