ہم قیدیوں کی رہائی کے پہلے مرحلے پر عمل درآمد کی تیاری کر رہے ہیں، اسرائیل
اشاعت کی تاریخ: 4th, October 2025 GMT
اسرائیلی ریڈیو نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حکومت کی سیاسی سطحوں نے فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ غزہ میں کارروائیاں بند کر دیں اور اپنی سرگرمیوں کو "کم سے کم" کر دیں اور صرف پٹی میں دفاعی کارروائیاں کریں۔ اسلام ٹائمز۔ صیہونی وزیراعظم کے دفتر نے اعلان کیا کہ وہ اسرائیلی قیدیوں کو رہا کروانے کے لئے ٹرمپ کے منصوبے کے پہلے مرحلے پر "فوری طور پر عمل درآمد" کی تیاری کر رہا ہے۔بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیاہے کہ ہم ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے "اسرائیل کے طے کردہ اصولوں کی بنیاد پر" مکمل تعاون کے ساتھ کام جاری رکھیں گے۔ اسرائیلی ریڈیو نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حکومت کی سیاسی سطحوں نے فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ غزہ میں کارروائیاں بند کر دیں اور اپنی سرگرمیوں کو "کم سے کم" کر دیں اور صرف پٹی میں دفاعی کارروائیاں کریں۔
ایک اسرائیلی اہلکار کے حوالے سے مغربی ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو غزہ میں جنگ روکنے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے پر حماس کے ردعمل سے حیران ہیں۔اسرائیلی اہلکار نے کہا کہ نیتن یاہو نے ٹرمپ کے منصوبے کا اعلان کرنے سے قبل مشاورت کے دوران حماس کے ردعمل کو منفی طور پر متوقع تصورکیا تھا۔اسرائیلی اہلکار کے مطابق نیتن یاہو کا اصرار ہے کہ اس تاثر سے بچنے کے لیے امریکیوں کے ساتھ ہم آہنگی کی جانی چاہیے کہ حماس نے اس منصوبے پر مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کر دیں اور نیتن یاہو
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔