راولپنڈی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 34 ڈینگی کے نئے مریض رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران راولپنڈی میں 34 ڈینگی کے نئے مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق راولپنڈی میں ڈینگی کے کُل 12249 مریضوں کی سکریننگ کی گئی جس میں 793 ڈینگی کنفرم مریض آئے۔
رواں سال اب تک ڈینگی سے کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی جبکہ ڈینگی کے 82 کنفرم مریض اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
ڈینگی سرویلنس ٹیموں کی تعداد 1499 ہے اور اب تک 55 لاکھ 14 ہزار 346 گھروں کی چیکنگ ہوچکی ہے جس میں سے 1 لاکھ 71 ہزار 050 گھر ڈینگی پازٹیو رہے۔
اسپاٹ چیکنگ 15 لاکھ 1 ہزار، 096 سپاٹ چیک کیے گے اور 23 ہزار 035 اسپاٹ پازٹیو رہے ۔ 1 لاکھ 94 ہزار 085 مقامات سے لاروا ملا جسے تلف کردیا گیا۔
ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 4389 ایف آئی آرز، 1839بلڈنگ سربمہر اور 3462 چالان درج کیے گئے جبکہ ڈینگی لاروا کی موجودگی ایس او پی کی خلاف ورزی پر 1 کروڑ 78 لاکھ 7 ہزار روپے جرمانہ کیا گیا۔
گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں امر پورہ، اصغر مال سکیم، بیول۔چاہ سلطان، چک جلال دین اور چکلالہ سے ڈینگی کے مریض ائے۔ دھمیال، ڈھوک حسو، ڈھوک کشمیریاں، ڈھوک منشی، ڈھوک نجو اور گڑھی سکندر کے علاقوں سے بھی ڈینگی کے مریض آئے۔
علاوہ ازیں گھیلا خورد، گرجا، کوٹھہ کلاں، قاسم آباد رینال اور ٹھٹھہ خلیل سے بھی ڈینگی کے مریض ائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈینگی کے
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔