جےیوآئی کے تحت مفتی محمود کانفرنس کی کامیابی کیلیے دعائیہ تقاریب
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے زیراہتمام 16 اکتوبر کو ڈی آئی خان کی سرزمین پر منعقد ہونیوالی عظیم الشان مفتی محمود کانفرنس کی کامیابی کیلئے حرمین الشریفین خصوصاً مدینہ منورہ میں دعائیہ تقاریب کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں جے یو آئی سعودی عرب کے مرکزی رہنماء انجنئیر حاجی سجاد خان ، ممبر صوبائی اسمبلی اعجاز خان ، سابق تحصیل ناظم بنوں ملک احسان خان اور ملک عدنان خان نے خصوصی شرکت کی ۔ اس موقع پر انجنئیر حاجی سجاد خان نے کانفرنس کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 19 اکتوبر کو بیساکھی گراؤنڈ ڈی آئی خان میں مفتی محمود کانفرنس کے نام جے یو آئی کا تاریخ ساز پاور شو ہوگا جس میں مرکزی و صوبائی قائدین سمیت قائد جمعیتہ مولانا فضل الرحمن کا تاریخی خطاب ہوگا ۔ اس سلسلہ میں عوام میں شعور اجاگر کرنے اور کانفرنس کی کامیابی کیلئے مہم اور تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور یہ ایک تاریخ ساز دن ہوگا جسمیں ملک کے کونے کونے سے جماعتی ساتھی اور عوام مختلف قافلوں کی شکل میں شرکت کرکے مفتی محمود کانفرنس کو کامیابی سے ہمکنار کرینگے ۔ آخر میں مسجد نبوی ﷺ میں کانفرنس کی بھرپور کامیابی اور ملک کی ترقی و سلامتی کیلئے خصوصی دعا کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مفتی محمود کانفرنس کانفرنس کی
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔