ہماری تحریک نئے ولولے کے ساتھ آگے بڑھے گی، سلمان راجہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ۔فوٹو فائل
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ آج بڑا فیصلہ تھا، جس سے پارلیمانی پارٹی کو آگاہ کیا گیا، ہماری تحریک نئے ولولے کے ساتھ آگے بڑھے گی۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے پارلیمانی پارٹی کو محمود اچکزئی کو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر، علامہ راجہ ناصر عباس کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر نامزد کرنے کی ہدایات دی، دونوں کی نامزدگی کے لیے کارروائی شروع ہوگئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہماری تحریک نئے ولولے کے ساتھ آگے بڑھے گی، عمر ایوب اور شبلی فراز ہمارے لیڈر ہیں۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ عمر ایوب اور شبلی فراز کے معاملات عدالت میں درست ہوتے ہیں تو اپنی جگہ سنبھال لیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔