خادم حرمین شریفین کا مدینہ منورہ کی مسجد قبلتین 24 گھنٹے کھلی رکھنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے مدینہ منورہ کی تاریخی مسجد قبلتین کو 24 گھنٹے کھلا رکھنے کی ہدایت جاری کردی۔
یہ بھی پڑھیں: خادم الحرمین الشریفین پروگرام کے مہمانوں کا کنگ فہد قرآن پرنٹنگ کمپلیکس کا دورہ
اس فیصلے کا مقصد زائرین اور نمازی کو یہ سہولت فراہم کرنا ہے کہ وہ دن یا رات کسی بھی وقت عبادت ادا کرسکیں۔
امیر مدینہ اور ریجنل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز نے خادم حرمین شریفین اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ مملکت کی جانب سے بيوتُ اللّٰہ کی خدمت اور زائرین کو سہولت فراہم کرنے کے تسلسل کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسجد قبلتین کی دینی و تاریخی اہمیت کے پیش نظر انتظامیہ کو مکمل آپریشنل تیاری کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ نمازیوں کو ہر وقت پرسکون اور منظم ماحول میسر ہو۔
مزید پڑھیے: مکہ مکرمہ میں 9 اگست کو 45واں عالمی قرآن مقابلہ، 128 ملکوں کے قراء کی شرکت متوقع
وزیر مذہبی امور شیخ ڈاکٹر عبداللطیف بن عبدالعزیز آل الشیخ نے کہا کہ مسجد کو 24 گھنٹے کھولنے کا فیصلہ سعودی قیادت کے اس عزم کی توثیق ہے جو تاریخی مساجد کی دیکھ بھال اور نمازیوں کے لیے اعلیٰ ترین سہولتیں فراہم کرنے سے متعلق ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی سفیر کی ملاقات، ریاض میں 9ویں فیوچر انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت قبول
انہوں نے مزید بتایا کہ وزارت مذہبی امور بيوتُ اللّٰہ کی ترقی و نگہداشت کے لیے متعدد منصوبے نافذ کر رہی ہے جو مملکت کے وژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں اور اسلامی دنیا میں سعودی عرب کے قائدانہ کردار کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز مدینہ منورہ کی تاریخی مسجد قبلتین مسجد قبتلین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز مدینہ منورہ کی تاریخی مسجد قبلتین مسجد قبتلین خادم حرمین شریفین بن عبدالعزیز مسجد قبلتین
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم