پنجاب میں 60 ہزار بچوں کا تعلیمی سلسلہ متاثر، عارضی طور پر ٹینٹ اسکولز قائم کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: حالیہ سیلاب کے باعث پنجاب بھر میں 60 ہزار سے زائد بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پنجاب میں حالیہ سیلاب کے باعث صوبے بھر میں 60 ہزار سے زائد بچوں کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا ہے، جس کے بعد محکمۂ اسکول ایجوکیشن نے یونیسیف کے تعاون سے متاثرہ علاقوں میں عارضی ٹینٹ اسکولز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ بچوں کی تعلیم کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
وزیرِ تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی عمارتوں کی بحالی کا عمل تیزی سے جاری ہے اور حکومت نے 90 روز کے اندر تمام متاثرہ تعلیمی ادارے دوبارہ فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح یہ ہے کہ کسی بچے کا تعلیمی سال ضائع نہ ہو۔
رانا سکندر حیات کے مطابق متاثرہ اضلاع میں بچوں کے “لرننگ لاس” کو کم سے کم رکھنے کے لیے عارضی اسکولز تین شفٹوں میں چلائے جا رہے ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبا کو تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ آئندہ ہفتے سے ٹینٹ اسکولز کا باضابطہ آغاز کردیا جائے گا، جن میں بنیادی سہولیات، اسٹیشنری اور فرنیچر بھی فراہم کیا جائے گا۔
وزیرِ تعلیم نے مزید کہا کہ پنجاب حکومت بچوں کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے، تعلیم کی بحالی صرف عمارتوں کی تعمیر نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے خوابوں کو محفوظ بنانے کا عمل ہے، اور اس مقصد کے لیے حکومت ہر ممکن قدم اٹھائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔