وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ گوگی اور پنکی کے دور میں پنجاب میں صرف تباہی آئی۔
 لاہور میں ستھرا پنجاب پروگرام کی تقریب سے خطاب میں مریم نواز نے پی ٹی آئی پر تنقید کی اور کہا کہ تبدیلی کے دعوے داروں کے دور میں ہر طرف گندگی کے ڈھیر تھے۔
 انہوں نے کہا کہ گوگی اور پنکی کے دور میں پنجاب میں صرف تباہی آئی، ماضی میں صوبے میں صفائی سے متعلق کوئی کا م نہیں ہوا۔
 وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ ستھرا پنجاب پروگرام کے آغاز سے صوبے کے عوام نے سکھ کا سانس لیا، آپ نے پنجاب کے شہروں، دیہات کو صاف کرکے میرا سر فخر سے بلند کردیا۔
مریم نواز نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں ستھرا پنجاب کے ورکرز کی تعریف کی اور انہیں سلام پیش کیا، ساتھ ہی کہا کہ ستھرا پنجاب دنیا کا سب سے بڑا صفائی کا پروگرام ہے۔
 اُن کا کہنا تھا کہ ستھرا پنجاب پروگرام کی جیکٹ پہننا میرے لیے اعزاز ہے، یہ وردی پہن کرپیغام دیا ہے کہ آپ مجھ سے اور میں آپ سے ہوں۔
 وزیراعلیٰ پنجاب نے یہ بھی کہا کہ سیلاب کے بعد ستھرا پنجاب کے کارکنوں نے ہر جگہ شیشے کی طرح چمکا دی، سیلاب میں ستھرا پنجاب کے ورکرز نے انسانی بند باندھ کر پانی روکا۔
 انہوں نے کہا کہ میں نے پنجاب کی ترقی سے جلنے والوں کے دماغوں کی بھی صفائی کی، پنجاب کی بات مریم نواز نہیں کرے گی تو کون کرے گا؟
 مریم نواز نے کہا کہ سب کو پیسے ملتے ہیں، اپنی حکومتوں سے سوال کرو، گوگی پنکی کے دور میں پاکستان میں تباہی آئی، اُس دور میں ہر جگہ گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں