کچھ لوگ پنجاب کی ترقی سے جلتے ہیں، ان کے خلاف بات کروں گا: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
کچھ لوگ پنجاب کی ترقی سے جلتے ہیں، ان کے خلاف بات کروں گا: مریم نواز WhatsAppFacebookTwitter 0 7 October, 2025 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ کچھ لوگ پنجاب کی ترقی سے جلتے ہیں، ان کے دماغوں کی بھی صفائی کر دی جو پنجاب کی ترقی سے جلتے ہیں، بڑا غصہ آتا ہے ان کو کہ مریم پنجاب کی بات کرتی ہے، میں پنجاب کی بات نہیں کروں گی تو کون کرے گا؟۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے پنجاب میں نئیسینی ٹیشن فلیٹ کی نقاب کشائی کر دی، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ ستھرا پنجاب کے ہیروز کو سلام پیش کرتی ہوں، ستھرا پنجاب پروگرام میں شرکت میرے لیے اعزاز ہے۔
مریم نواز شریف نے کہا کہ ستھرا پنجاب پروگرام کی جیکٹ پہننا میرے لیے قابل فخر ہے، اگر پولیس کی وردی پہن سکتی ہوں تو ستھرا پنجاب کی کیوں نہیں، ستھرا پنجاب کے ہیروز ہماری ٹیم کا اہم حصہ ہیں، ستھرا پنجاب کی ٹیم نے صوبے کے چپے چپے کو صاف کیا، علاقوں کو چمکا دیا، میرا سر فخر سے بلند ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں جہاں بھی جاتی ہوں، ستھراپنجاب کے ہیروز کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہے، ستھرا پنجاب کے ورکرز کو دیکھ کر لگ رہا ہے یہ میرے فیملی ممبرز ہیں، پنجاب بھرمیں صفائی پروگرام کامیابی سے جاری ہے، پنجاب کے چھوٹے شہروں اور دیہات میں بھی صفائی کی جا رہی ہے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں ستھرا پنجاب کے ورکرز نے بہترین کام کیا، ستھرا پنجاب کی ٹیم نے میرے خواب کو پورا کیا، اتنی خوشی مجھے کسی تقریب میں نہیں ہوئی جتنی آج ہوئی، جب شہبازشریف کی حکومت ختم ہوئی تو پنجاب کی صفائی نہیں ہو رہی تھی۔وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ صوبہ میں صفائی کا کوئی نظام نہیں تھا، گوگی، پنکی کے دورمیں پنجاب میں تباہی آئی، تبدیلی کے دعوے داروں کے دور میں ہر طرف گندگی کے ڈھیر تھے، آج ستھرا پنجاب کی ٹیم میں ڈیڑھ لاکھ کی فورس ہے، اب پنجاب کے ہر شہر میں اپنی سٹیٹ آف دی آرٹ مشینری ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ خواب جو ایک سال پہلے دیکھا تھا آج حقیقت بن کر سامنے بیٹھا ہے، پہلے پنجاب کے دیہاتوں میں کسی نے توجہ نہیں دی تھی،
اب پنجاب کے ہر دیہات میں صفائی ہو رہی ہے، بیٹیاں آتی ہیں تو گھروں کی صفائی کرتی اور گھروں کو سجاتی ہیں۔مریم نواز شریف نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف مجھے جب ملتے ہیں تو شاباش دیتے ہیں، وہ خواب جو ایک سال پہلے دیکھا تھا آج حقیقت بن کر سامنے آچکا ہے، آج پنجاب بھر میں دیہات کے لیول پر صفائی کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پہلے کرائم بہت زیادہ تھا، اب کئی شہر ایسے ہیں جہاں کرائم زیرو ہے، پنجاب میں جرائم اور کوڑا کرکٹ کی بھی صفائی کر دی، میں خیبرپختونخوا، سندھ، بلوچستان کو بھی پنجاب کی طرح صاف دیکھنا چاہتی ہوں، گلی، محلے گندے ہیں تو اپنی اپنی حکومتوں سے سوال کرو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرشامی فوج اور کرد جنگجوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد جنگ بندی طے پاگئی شامی فوج اور کرد جنگجوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد جنگ بندی طے پاگئی پاکستانی اسپن جال سے بچنے کیلئے جنوبی افریقا نے اسپن کھیلنے پر فوکس کرلیا ماسکو فارمیٹ: پاکستان، بھارت، چین اور ایران کا افغانستان کی صورتحال پر غور اچھا ہوگا ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں جوڈو کراٹے ہوں، شیخ رشید احمد صدر مملکت کی سندھ اور پنجاب حکومت کے درمیان جاری تنا ئو پر وزیر داخلہ کو کردار ادا کرنے کی ہدایت ایئر پورٹ پر غیر معمولی گرمجوشی:وزیراعظم محمد شہباز شریف ملائیشیا کا سرکاری دورہ مکمل کرکے پاکستان روانہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پنجاب کی ترقی سے جلتے ہیں مریم نواز شریف نے ستھرا پنجاب کے ستھرا پنجاب کی نے کہا کہ
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔