برطانیہ سے دیرینہ تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہیں، محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے برطانوی رکن پارلیمنٹ لارڈ شفق محمد نے اسلام آباد میں ملاقات کی، اس اہم ملاقات میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دیرینہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور اور دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے گفتگو کے دوران کہا کہ پاکستان برطانیہ کے ساتھ اپنے گہرے اور تاریخی تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کمیونٹی نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان رابطے کا اہم پل ہے بلکہ کثیر جہتی ترقی میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ محسن نقوی نے اس موقع پر واضح کیا کہ دنیا میں کہیں بھی اگر کوئی پاکستانی کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس کا عمل قابلِ مذمت ہے، اور ایسے افراد کو واپس لینا پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وہ افراد جو اپنی پاکستانی شہریت ترک کر چکے ہیں، ان پر یہ ذمہ داری لاگو نہیں ہوتی۔ لارڈ شفق محمد نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے پاکستانی حکومت کی کوششوں اور اوورسیز کمیونٹی کے ساتھ روابط کو مزید بہتر بنانے کی کاوشوں کو بھی سراہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: محسن نقوی
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔