اماراتی خاتون ڈاکٹر اسرائیلی فورسز کو چکمہ دیکر امدادی کشتی پر غزہ کے قریب پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
متحدہ عرب امارات کی ڈاکٹر ظہیرہ سومر نے اطلاع دی ہے کی چند امدادی کشتیاں اسرائیلی بحریہ کے شکنجے کو توڑتے ہوئے غزہ کے قریب پہنچ چکی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ جانے والی 40 سے زائد امدادی کشتیوں کو یرغمال بنالیا گیا تھا تاہم چند کشتیاں اب بھی غزہ کی جانب رواں دواں ہیں۔
ایسی ہی ایک کشتی میں سوار متحدہ عرب امارات کی خاتون شہری نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ "ہم نہ صرف محفوظ ہیں بلکہ تیزی سے غزہ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
خاتون نے مزید بتایا کہ اب بھی کچھ کشتیاں اسرائیلی قبضے سے محفوظ ہیں اور امید ہے کہ کم از کم چند جہاز غزہ تک پہنچ کر امداد فراہم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
ڈاکٹر ظہیرہ نے بدھ کی صبح تقریباً 4 بجے اپنی ایک پوسٹ میں بتایا تھا کہ ایک اسرائیلی جنگی جہاز ان کی کشتی کے قریب آیا تھا۔
خاتون کے بقول ہمیں لگا کہ شاید فون سمندر میں پھینکنے پڑیں لیکن ہم اسرائیلی بحریہ کی کشتی کو کسی طرح چکمہ دینے میں کامیاب ہوگئے۔
ادھر فلوٹیلا کے آفیشل اکاؤنٹ کے مطابق اب تک کم از کم 13 امدادی جہاز اسرائیلی فوج نے روک لیے ہیں، جن میں الما، ادرا، اسپیکٹر، اورورا، دیر یاسین، ہوگا اور یولارا شامل ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں اسرائیلی فوجیوں کو کشتیوں پر دھاوا بولتے اور پانی کی توپوں (واٹر کینن) سے کارکنوں کو نشانہ بناتے دیکھا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر ظہیرہ تین بچوں کی ماں ہیں۔ انھوں نے غزہ روانگی سے قبل بتایا تھا کہ وہ اس مشن کو ایک "ذمہ داری اور دل کی پکار" سمجھ کر شامل ہوئی اور وصیت بھی لکھ کر نکلی ہوں۔
یاد رہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا 45 جہازوں اور 497 رضاکاروں پر مشتمل ہے، جن میں 46 ممالک کے کارکن شامل ہیں۔
2010 میں اسرائیلی افواج نے ایک فلوٹیلا پر دھاوا بولتے ہوئے 10 کارکنوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے آج تک کوئی فلوٹیلا غزہ تک نہیں پہنچ سکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
میکسیکو کی معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر پاؤلا مارکیز اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائی گئی ہیں، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 سالہ پاؤلا مارکیز کی لاش 30 مئی کو ان کے گھر کے اندر سے اس وقت برآمد ہوئی جب ایک اہلِ خانہ نے انہیں بے ہوش حالت میں پایا۔ بعد ازاں طبی عملے نے موقع پر ہی ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
ابتدائی تحقیقات میں پولیس مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے جن میں خودکشی اور ممکنہ قتل دونوں امکانات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے تمام شواہد کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاؤلا مارکیز سوشل میڈیا پر خاصی مقبول تھیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر ان کے فالوورز کی تعداد 20 لاکھ سے زائد تھی۔ وہ زیادہ تر لائف اسٹائل، سفر اور پرتعیش زندگی سے متعلق مواد شیئر کرتی تھیں۔
ان کی ایک حالیہ ٹک ٹاک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق مایوس کن انداز میں گفتگو کی تھی۔ ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے جو کچھ چاہا وہ مانگا، لیکن شاید الٹا مانگا، کیونکہ جو تھوڑا بہت میرے پاس تھا وہ بھی ہاتھ سے نکل رہا ہے۔‘‘
افسوسناک خبر کے بعد ان کے والد ہیرکولیس مارکیز بالڈیرس نے فیس بک پر جذباتی پیغام میں اپنی بیٹی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ان کی ’’پیارا بیٹی پاؤلا اب اس دنیا میں نہیں رہی‘‘ اور وہ دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں بہترین مقام عطا کرے۔
والد کی پوسٹ پر صارفین کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ بھی جاری رہا، جہاں مداحوں اور قریبی افراد نے اہلِ خانہ سے ہمدردی اور صبر کی دعا کی۔ بعد ازاں اہلِ خانہ نے تصدیق کی کہ پاؤلا مارکیز کی آخری رسومات یکم جون کو سان لوئیس پوٹوسی کے علاقے ہویچی ہوان میں ادا کی گئیں۔
پاؤلا مارکیز نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹوں میں دنیا بھر کے سفر، لگژری ٹرپس اور ایونٹس کی جھلکیاں شیئر کرکے بڑی شہرت حاصل کی تھی۔ ان کے انسٹاگرام بائیو میں درج ایک جملہ ’’انسٹاگرام اصل زندگی نہیں ہے‘‘ بھی ان کی سوچ کی عکاسی کرتا تھا۔