data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مقبوضہ بیت المقدس: غزہ شہر میں قابض اسرائیلی فوج اور حماس کے عسکری ونگ القدس بریگیڈ کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ شدت اختیار کرگیا ہے،  القدس بریگیڈ نے اسرائیلی فوجیوں اور فوجی گاڑیوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

عالمی میڈیا  رپورٹس کے مطابق عسکری ونگ القدس بریگیڈ نے  یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب اسرائیلی فوج شہر کے مغربی حصے میں پیش قدمی کر رہی تھی۔

 القدس بریگیڈ کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ مجاہدین نے دشمن فوج کو مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کئی گاڑیاں تباہ ہوئیں اور متعدد فوجی زخمی ہوئے۔

ترجمان کے مطابق کارروائی کے بعد اسرائیلی فورسز نے جوابی حملہ کرتے ہوئے علاقے میں شدید گولہ باری کی، جس کے باعث شہری آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ گولہ باری کے دوران درجنوں مکانات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

دوسری جانب  اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ ان کے دستوں پر حملہ ہوا ہے،  فوجی ترجمان نے نقصانات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی روز سے غزہ کے مغربی علاقوں میں اسرائیلی فورسز کی کارروائیاں تیز ہوچکی ہیں اور القدس بریگیڈ کے مجاہدین مزاحمت کے ذریعے پیش قدمی کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک ہزاروں فلسطینی شہید اور زخمی ہوچکے ہیں جبکہ عالمی برادری کی خاموشی نے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

واضح رہےکہ رہے کہ حماس کی قیادت قطر کے شہر دوحہ میں مذاکرات کے لیے موجود تھی لیکن اسرائیلی دہشت گردی کے باعث مذاکرات تاخیر کا شکار ہوئے۔ اسرائیل مسلسل دہشت گردی کررہا ہے لیکن عالمی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: القدس بریگیڈ اسرائیلی فوج

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان