ایس ایم ایس، واٹس ایپ اور کالز کے ذریعے فشنگ حملوں میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ کسی نامعلوم لنک پر کلک کریں نہ مشکوک پیغامات یا کالز کا جواب دیں۔ نیشنل سرٹ کے مطابق ہیکرز جعلی پیغامات اور کالز کے ذریعے شہریوں کی ذاتی معلومات چرا رہے ہیں۔ شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اپنے بینک اکاؤنٹ، شناختی کارڈ یا او ٹی پی کوڈ کسی کیساتھ شیئر نہ کریں۔ غیر تصدیق شدہ ویب سائٹس اور لنکس کے ذریعے لاگ ان سے گریز کیا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ ایس ایم ایس، واٹس ایپ اور کالز کے ذریعے فشنگ حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ جعلی پیغامات اور کالز کے ذریعے شہریوں کی ذاتی معلومات چرائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ کسی نامعلوم لنک پر کلک کریں نہ مشکوک پیغامات یا کالز کا جواب دیں۔ نیشنل سرٹ کے مطابق ہیکرز جعلی پیغامات اور کالز کے ذریعے شہریوں کی ذاتی معلومات چرا رہے ہیں۔ شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اپنے بینک اکاؤنٹ، شناختی کارڈ یا او ٹی پی کوڈ کسی کیساتھ شیئر نہ کریں۔ غیر تصدیق شدہ ویب سائٹس اور لنکس کے ذریعے لاگ ان سے گریز کیا جائے۔ صرف سرکاری چینلز استعمال کریں اور اپنی ذاتی معلومات محفوظ رکھیں۔
نیشنل سرٹ کی جانب سے جاری الرٹ کے مطابق فشنگ پیغامات میں اکثر انعامات، لاٹری یا بینک الرٹ کا جھانسہ دیا جاتا ہے۔ ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے شہریوں سے احتیاط برتنے اور جعلی نمبروں کو بلاک کرنے کی اپیل کی ہے، اگر کسی مشکوک لنک پر کلک ہو جائے تو فوراً پاس ورڈ تبدیل کریں اور متعلقہ ادارے کو اطلاع دیں۔ کسی بھی ادارے کا نمائندہ فون یا ایس ایم ایس پر آپ سے پاس ورڈ یا کوڈ نہیں مانگتا، فشنگ حملے ملکی سطح پر بڑھ رہے ہیں، ان سے بچنے کیلئے ہوشیار رہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اور کالز کے ذریعے ذاتی معلومات خبردار کیا
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔