راولپنڈی میں ڈینگی کا حملہ جاری، 24 گھنٹے میں 30 نئے مریض رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
راولپنڈی میں ڈینگی وائرس کا حملہ موسمی تبدیلیوں کے باوجود مسلسل جاری ہے، جہاں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ڈینگی کے مزید 30 مریض سامنے آئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی شہر میں ڈینگی کے مریضوں کی کل تعداد 865 ہو گئی ہے۔
اس وقت مختلف اسپتالوں میں ڈینگی کے 75 مریض زیر علاج ہیں، جن کی حالت تسلی بخش بتائی جا رہی ہے۔ ڈینگی کے خاتمے کے لیے محکمہ صحت کی 1,361 ٹیمیں میدان میں مصروف عمل ہیں، جو مسلسل احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کروانے میں مصروف ہیں۔
اب تک 55 لاکھ 90 ہزار 264 گھروں کی چیکنگ کی جا چکی ہے، جن میں سے ایک لاکھ 75 ہزار 412 گھروں سے ڈینگی کے لاروا برآمد ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 15 لاکھ 30 ہزار 631 مقامات کی چیکنگ کے دوران 23 ہزار 536 مقامات سے لاروا دریافت ہوئے ہیں۔
محکمہ صحت کی جانب سے ڈینگی کے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کی خلاف ورزی پر 4,450 مقدمات درج کیے گئے ہیں، جبکہ مسلسل خلاف ورزی پر 1,850 مقامات کو سیل کر دیا گیا ہے۔
ڈینگی کے رواں سیزن میں احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی پر ایک کروڑ 87 لاکھ 4,507 روپے جرمانے کی صورت میں حکومتی خزانے میں جمع ہوئے ہیں۔ یہ اقدامات ڈینگی مچھر کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
شہری حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈینگی سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور اپنے گھروں کے اردگرد صفائی کا خاص خیال رکھیں۔ محکمہ صحت کی ٹیمیں شہر بھر میں اسپرے مہم بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں ڈینگی ہوئے ہیں ڈینگی کے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک