مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی بحریہ نے ایک بار پھر انسانی ہمدردی کی عالمی کوششوں کو نشانہ بناتے ہوئے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے ’’فریڈم فلوٹیلا‘‘ پر حملہ کر دیا۔

صہیونی کارروائی کے دوران اسرائیلی فورسز نے 3 امدادی جہازوں پر قبضہ کر کے انہیں اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ واقعہ اُس مقام پر پیش آیا جو اسرائیلی ناکا بندی کے زون سے تقریباً 120 ناٹیکل میل دور واقع ہے، یعنی بین الاقوامی سمندری حدود میں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق فلوٹیلا کے منتظمین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ ’’ہماری امدادی کشتیاں غزہ سے تقریباً 120 ناٹیکل میل کے فاصلے پر تھیں جب اسرائیلی بحریہ نے اچانک حملہ کیا۔  اس کارروائی میں 3 جہازوں کو قبضے میں لے لیا گیا ہے جبکہ ہمارے عملے سے رابطہ منقطع کر دیا گیا ہے۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی حکام نے لائیو نشریات بند کروا دیں تاکہ دنیا کارروائی کی حقیقت نہ دیکھ سکے۔

دوسری جانب قابض ریاست اسرائیل کی  وزارتِ خارجہ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے ایک عمومی بیان میں کہا کہ ’’تمام جہازوں اور ان میں سوار افراد کو محفوظ رکھا گیا ہے، انہیں اسرائیلی بندرگاہ منتقل کیا جا رہا ہے اور بعد ازاں اپنے وطن واپس بھیج دیا جائے گا۔‘‘

فلوٹیلا کے رضاکاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بیان کو ’’جھوٹ اور حقائق چھپانے کی کوشش‘‘ قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل اسرائیل نے ’’گلوبل صمود فلوٹیلا‘‘ پر بھی حملہ کیا تھا جس میں 500 سے زائد امدادی کارکنوں کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد سمیت مختلف ممالک کے انسانی حقوق کے کارکن شامل تھے۔ اگرچہ زیادہ تر رضاکاروں کو بعد میں رہا کر دیا گیا، مگر اس واقعے نے اسرائیلی جارحیت کے تسلسل اور عالمی برادری کی خاموشی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل امدادی مشنز کو نشانہ بنا کر نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ انسانی اقدار کی بھی سنگین خلاف ورزی کر رہا ہے۔

غزہ کے عوام اس وقت بدترین انسانی بحران سے گزر رہے ہیں، جہاں ہزاروں خاندان محصور ہیں اور خوراک و دواؤں کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں فلوٹیلا جیسی کاوشیں امید کی کرن ثابت ہوتی ہیں، مگر اسرائیلی حملے ان کوششوں کو بار بار سبوتاژ کر رہے ہیں۔

فلسطینی حلقوں نے عالمی اداروں، اقوام متحدہ اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ان غیر انسانی اقدامات کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی کریں تاکہ امدادی مشنز کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور محصور غزہ کے عوام تک امداد بلا روک ٹوک پہنچ سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

پڑھیں:

نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان

تل ابیب: اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو اپنی موجودگی اور آپریشنز بڑھانے کی ہدایت جاری کر دی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ بیوفورٹ قلعے پر قبضہ ایک “ڈرامائی قدم” اور اسرائیلی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل غزہ، مصر اور لبنان سمیت مختلف محاذوں پر سرگرم ہے۔ اور سرحدوں سے باہر سیکیورٹی زونز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ اسرائیلی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو ہدایت دی گئی ہے کہ لبنان میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط اور وسیع کیا جائے۔ خصوصاً ان علاقوں میں جہاں ماضی میں حزب اللہ کا اثر و رسوخ رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا ہے کہ اکتوبر 2023 سے اب تک حزب اللہ کے 8 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اب تک متعدد اسرائیلی ہلاکتیں بھی سامنے آئی ہیں، جن میں حالیہ ڈرون حملے میں مارا گیا ایک فوجی بھی شامل ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان