کراچی:

عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ 17سال سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے لیکن کراچی کے عوام کو پانی میسر نہیں، کیا ٹینکر مافیا ساری زندگی یہاں رہے گا؟

مفتاح اسماعیل کے ہمراہ کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  میرپور ماتھیلو میں صحافی کو قتل کردیا گیا، سندھ حکومت قاتلوں کی گرفتاری میں اپنا کردار ادا کرے، موجودہ ملکی محالات اچھے نہیں ہیں، گذشتہ چار سال سے معیشت میں اچھے حالات نہیں ہیں، ملک میں روزگار کے مواقع نہیں ہیں، حکومت کے پاس واضع پلان نہیں ہے۔

شاہد خاقان نے کہا کہ ملک میں آٹا مہنگا ہوتا جارہا ہے، عوام مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں، چینی بھی مہنگی ہورہی ہے، شوگر ملز مالکان کا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہے، حکومت کی مس پلاننگ سے چینی مہنگی ہوئی، ملک میں معاشی ترقی نہیں ہوگی تو روزگار کے مواقع نہیں پیدا ہوں گے۔

انہوں ںے کہا کہ جب انتشار ہوگا تو ترقی کیسے آئے گی؟ 17سال سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے لیکن کراچی کے عوام کو پانی میسر نہیں، سندھ حکومت شہریوں کو پانی تک فراہم نہیں کررہی ہے، سائٹ کے علاقے کی سڑکیں خراب ہیں، سندھ کے بیشتر علاقے تباہ حال ہیں۔

انہوں ںے کہا کہ اس سال  بھی امید نہیں کہ معیشت بہتر ہوسکے گی، معیشت بہتر نہ ہوئی تو عوام کے حالات ٹھیک نہیں ہوں گے، کسان کو 2000 روپے میں گندم بیچنا پڑرہی ہے، جس کسان نے محنت کی وہ تباہ ہوگیا، پاکستان کے عوام فی کلو آٹا کے 105 روپے ادا کررہے ہیں، چینی کے نرخ 60 سے بڑھ کر کہاں تک پہنچ گئے، چینی ملز مالکان کی اکثریت سیاست دانوں کی ہے، ایک ارب روپے یومیہ لیا جارہا ہے، سرمایہ کاری اور ترقی نہ ہو تو نوجوانوں کو روزگار نہیں ملےگا مقامی سرمایہ کار اپنے ملک میں سرمایہ نہیں لگارہے، یہ باتیں کب سمجھ آئیں گی؟

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ایک صوبے میں 17 سال ایک پارٹی کی حکومت کی کوئی مثال نہیں، کراچی کے لوگ پریشان ہیں، کیا کراچی کے لوگوں کو پانی مل رہا ہے؟ کیا ٹینکر مافیا پوری زندگی یہاں رہےگا؟

شاہد خاقان نے کہا کہ کراچی کو اس کا حق ملنا چاہیے، سندھ کے پاس رقم آبادی کے حساب سے آتی ہے، جب تک کراچی ترقی نہیں کرے گا پاکستان ترقی نہیں کرسکتا، فیصلہ کرلیں کہ کراچی کی عوام کو پانی دینا ہے، مگر یہاں بھتے کی پرچی کے ساتھ گولی آتی ہے، پولیس کا کام کیا صرف سیاسی عہدیداروں کو پروٹوکول دینا رہ گیاہے؟ پاکستان کے عوام پر پولیس کا خرچہ کم ہے اور سیاسی عہدیداروں پر پولیس کا خرچہ زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے باقی علاقوں میں بھی ترقی نظر نہیں آتی، کرپشن کے معاملات دیکھ لیں، بدقسمتی ہے کہ مہنگائی و بے روزگاری کے ساتھ کرپشن بدترین سطح پر ہے، کرپشن روز بڑھتی جارہی ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، سینیٹ قومی صوبائی اسمبلی میں بیٹھی اکثریت پیسے دے کر آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں جو ہوا معمولی بات نہیں اس لیے انگریز جو نظام چھوڑ گیا وہ قبول نہیں، صوبوں میں تفریق کیوں ہے، صوبوں میں جاگیرداری بن گئی ہے، پاکستان کے لیے خطرات بڑھتے جائیں گے، سیاسی انتشار کو ختم کرنا ہے، قانون کی حکمرانی ہو تو سرمایہ کاری ترقی ہوگی، تحفظات دور کرکے ہم نے نئے صوبے  بنانے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک نکاتی ایجنڈا ہو کہ جو فلسطینیوں کو قبول ہوگا پاکستان اس کی حمایت کرے گا، وزیراعظم کچھ اور نائب وزیر اعظم کچھ اور ہی کہتے ہیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ جب سرمایہ کار خود کو محفوظ تصور نہ کرتا تو وہ واپس چلا جاتا ہے، پالیسیوں کے عدم تسلسل، ٹیکسوں پر ٹیکس عائد کیے جانے سے کثیرالقومی کمپنیاں اپنا کاروبار سمیٹ رہی ہیں، بانی پی ٹی آئی کی وفاقی صوبائی حکومتیں بدترین تھیں، ہم نے اپنے اقتدار میں کراچی کے لیے جتنے پیسے مانگے گئے ہم نے وہ دئیے، صوبے اب جاگیریں بن گئی ہیں

انہوں نے مزید کہا کہ بڑی سیاسی جماعتیں، سربراہان، چیف جسٹس بیٹھ جائیں اور فیصلہ کریں کہ ملک کیسے چلانا ہے، معدنیات صوبوں کی ملکیت ہیں، قانون آئین سے متصادم ہے تو وہ قابل قبول نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عوام کو پانی شاہد خاقان نے کہا کہ کراچی کے کی حکومت انہوں نے کے عوام ملک میں

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا