ٹی ایل پی کے لبیک یا اقصیٰ مارچ کو روکنے کیلئے حکومت کے اوچھے ہتھکنڈے، درجنوں کارکنان گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے فلسطین کے حق میں ہونے والے پرامن ’لبیک یا اقصیٰ مارچ‘ کو روکنے کے لیے ریاستی طاقت کا بے دریغ استعمال شروع کردیا ہے۔
ترجمان تحریک لبیک پاکستان کے مطابق پنجاب بھر میں کارکنان کی گرفتاریاں، گھروں پر چھاپے اور مرکز جامع مسجد رحمت اللعالمین لاہور پر پولیس کا حملہ حکومت کی بوکھلاہٹ اور جبر کی انتہا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ پولیس کی بھاری نفری نے آنسو گیس اور لاٹھیوں کے ساتھ تحریک لبیک کے مرکزی دفتر پر چڑھائی کی، جس کے نتیجے میں مسجد کے اطراف صورتحال کشیدہ ہوگئی اور متعدد کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ جہاں ایک طرف یہودی فلسطینی مسلمانوں پر ظلم ڈھا رہے ہیں، وہیں یہاں ان کے حمایتی مسلمانوں پر ظلم کررہے ہیں، پرامن مارچ برائے فلسطین کو جرم بنا دیا گیا ہے، جو مذہبی اور انسانی آزادی پر سنگین حملہ ہے۔
ترجمان کاکہنا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان کے نائب امیر پیر سید ظہیر الحسن شاہ کی گرفتاری کے بعد پنجاب بھر میں ریاستی جبر اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے، فلسطین کے حق میں نکالے جانے والے پرامن مارچ کو روکنے کی کوشش افسوسناک اور ناقابل قبول ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ طاقت کے زور پر حق کی آواز دبائی نہیں جا سکتی، ظلم کا ہر وار ناکام ہوگا، اگر گرفتاریاں اور چھاپے بند نہ ہوئے تو عوامی ردِعمل کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔
تحریک لبیک کے ترجمان نے حکومت کو خبردار کیا کہ سیاسی انتقام اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی کے اس سلسلے کو فوری طور پر روکا جائے، حکومت مذہبی و عوامی جذبات کو طاقت سے دبا نہیں سکتی، کارکنان کے گھروں پر چھاپے اور گرفتاریوں کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تحریک لبیک
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔