ایکواڈور : مظاہرین کا صدارتی گاڑی پر پتھراؤ ‘ قاتلانہ حملے کی بھی کوشش
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کیوٹو (انٹرنیشنل ڈیسک) جنوب امریکی ملک ایکواڈور میں صدر نوبوا ڈینیل پر قاتلانہ حملہ کیا گیا،جس میں وہ بال بال بچ گئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق صدر نوبوا کی گاڑی کو 500 سے زائد مظاہرین نے گھیر کر پتھراؤکیا۔ ایک سینئر وزیر کے مطابق بلوے کے دوران گولیاں بھی چلائی گئیں تاہم صدر محفوظ رہے، صدر کی گاڑی پرگولیاں لگنے کے واضح نشانات ہیں۔ پولیس نے قاتلانہ حملے میں ملوث5 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔ ایکواڈور کے صدارتی آفس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملوث ملزمان کے خلاف دہشتگردی اور قاتلانہ حملے کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔