ڈمپر ڈرائیور سے دولت کی بلندیوں تک، اربوں کے اسکینڈل کا ماسٹر مائنڈ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
پشاور میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 40 ارب روپے کے بڑے مالیاتی اسکینڈل میں ملوث ایک سابق ڈمپر ڈرائیور کو گرفتار کر لیا ہے۔
ملزم پر الزام ہے کہ اس نے جعلی کمپنی کے ذریعے سرکاری خزانے سے 3 ارب روپے سے زائد کی رقم حاصل کی اور مختلف بینکوں میں 16 ارب روپے سے زائد کی مشکوک ٹرانزیکشنز کیں۔
نیب حکام کے مطابق ملزم کی گرفتاری اس تاریخی مالیاتی اسکینڈل کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ہے اور تفتیش کے دوران مزید ملزمان کے نام سامنے آنے کا امکان ہے۔ گرفتار ملزم ایم/ایس ممتاز خان کنسٹرکشن کمپنی کے نام سے جعلی کمپنی کا مالک اور ڈائریکٹر تھا، جسے نیب خیبر پختونخوا نے ایبٹ آباد سے گرفتار کیا۔ بعد ازاں ملزم کو پشاور کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے نیب کو آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا تاکہ مزید شواہد حاصل کیے جا سکیں۔
نیب کی ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم ماضی میں ایک عام ڈمپر ڈرائیور تھا، مگر دیگر شریک ملزمان کے ساتھ مل کر اس نے جعلی کمپنی قائم کی اور سرکاری فنڈز کو خورد برد کیا۔ ذرائع کے مطابق یہ رقم ٹھیکیداروں کے سکیورٹی ڈپازٹ ہیڈ آف اکاؤنٹ (G-10113) سے نکالی گئی، جو سرکاری منصوبوں کے لیے ضمانتی رقم کے طور پر رکھی جاتی ہے۔
تحقیقات سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ جعلی کمپنی اور اس کے بینک اکاؤنٹس کو خرد برد شدہ رقم کی منتقلی کے مرکزی ذرائع کے طور پر استعمال کیا گیا۔ نیب کے مطابق کیس میں مزید اہم گرفتاریاں متوقع ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: جعلی کمپنی
پڑھیں:
اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان پر چار تارکین وطن کے قتل کا الزام ہے جن کی لاشیں ایک جلی ہوئی منی وین سے ملی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان چار میں سے ایک پاکستانی جبکہ تین کا تعلق افغانستان سے تھا۔اطلاعات کے مطابق پولیس کو جنوبی کالابریا کے زرعی علاقے میں ایک گاؤں کے نزدیک پیٹرول پمپ سے جلی ہوئی گاڑی ملی۔سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آتا ہے کہ دو افراد نے باہر سے وین کے دروازے بند کیے اور اندر کوئی مائع شے ڈال کر آگ لگا دی۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں اس علاقے میں پاکستانیوں کو لے جانے والی گاڑیوں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔یہ واقعات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مقامی کھیتوں میں کام کی تقسیم اور رہائش کے حوالے سے تارکین وطن میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔منگل کے روز مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے تقریباً ایک بجے فائر فائٹرز کو جلتی ہوئی وین کی اطلاع ملی تھی۔آگ بجھانے کے بعد انھوں نے اندر دیکھا تو ایک خوفناک منظر تھا۔ وین میں چار جلی ہوئی لاشیں موجود تھیں۔رپورٹس کے مطابق بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج سے حاصل شواہد کی بنیاد پر دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔