Jasarat News:
2026-06-03@05:59:16 GMT

ٹرمپ امن منصوبہ، امن یا حماس کے لیے سرنڈر کی شرط؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251010-03-6

 

دلشاد عالم

آخری حصہ

اگر حماس ان نکات کی قبولیت سے انکاری ہو جائے، یا صرف جزوی قبول کرے، تو منصوبہ عملی شکل نہ لے پائے گا۔ بعض نکات بہت مبہم ہیں مثال کے طور پر ’’جب غزہ کی تعمیر ہو جائے، تب فلسطینی ریاست کا امکان‘‘ اس میں وقتی تعطل اور اختلافِ رائے کا بہت امکان ہے۔ عوام اور مسلح گروہ دونوں میں شدید نفرت، انتقامی رجحان، اور امن مخالف نظریے پائے جاتے ہیں۔ ان کو تبدیل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اگر اسرائیل، امریکا، یا نمائندہ بین الاقوامی فورس وعدے پورے نہ کریں، یا حماس کے کچھ افراد مزاحمت کریں، تو منصوبہ ناکام ہوسکتا ہے۔ یہ منصوبہ صرف غزہ کا معاملہ ہے؛ اگر غربِ اردن، یروشلم، فلسطینی ریاست کا سوال حل نہ ہو تو پورا تنازع برقرار رہے گا۔ یہ کہنا درست ہے کہ اگرچہ یہ منصوبہ امن کی امید ظاہر کرتا ہے، اس کی کامیابی تقریباً ’’متعدد اجزاء کی درست ترتیب‘‘ پر منحصر ہے۔ اگر ایک بھی اہم جزو غلط ہو جائے، یہ شکست کی طرف مائل ہوگا۔

کیا یہ منصوبہ دراصل شکست ہو گا یا امن لائے گا؟ میری اپنی بصیرت یہ ہے کہ یہ منصوبہ امکاناً جزوی عمل درآمد کے ساتھ ایک عبوری امن فراہم کر سکتا ہے، مگر وہ مکمل اور پائیدار امن نہیں ہوگا، اور بہت ممکن ہے کہ وہ ’’موقوف جنگ بندی اور محدود بحالی‘‘ کی شکل اختیار کرے، نہ کہ پورے تنازع کا حل۔ اس منصوبے نے حماس کو مکمل تسلیم کرنے کی سخت شرط رکھی ہے، اور وہ شرطیں ایسی ہیں کہ حماس اپنا سیاسی و عسکری ہتھیار تقریباً خود تحلیل کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ بہت سی شقیں اس پر مبنی ہیں کہ حماس ’’نئے غزہ‘‘ کو قبول کرے اور مکمل سیاسی قوت سے دستبردار ہو جائے۔ اگر حماس سخت موقف اختیار کرے، اس منصوبے کا رد یا تاخیر ممکن ہے، اور پھر اسرائیل دوبارہ عسکری دبائو استعمال کرے گا۔ اگر کوئی فریق وعدوں پر عمل نہ کرے، یا امن فورس مؤثر نہ ہو، تو امن خطرے میں ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ اسرائیل نے اس طرح کے امن معاہدے کیے ہوں۔ ماضی کی مثالیں اس منصوبے کے خدشات کو اور بڑھاتی ہیں: اسلو معاہدے (1993–95) کے بعد بھی اسرائیل نے بستیوں کی توسیع جاری رکھی۔ غزہ ڈس انگیج منٹ (2005) میں انخلا کے باوجود اسرائیل نے مکمل محاصرہ لگا دیا، اور ہر آمد و رفت اپنے کنٹرول میں رکھی۔ شام اور دیگر ملکوں سے معاہدوں کے باوجود اسرائیل نے عسکری کارروائیاں جاری رکھیں۔ حالیہ برسوں میں بھی جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے غزہ پر حملے جاری رکھے اور 65 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا اور جو لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اگر ان کی تعداد بھی شامل کر لی جائے تو لگ بھگ دو لاکھ کے قریب بنتی ہے یعنی 10 فی صد کے قریب لوگوں کو آپ نے زندگی سے خالی کر دیا، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ معاہدوں کو محض وقتی حکمت ِ عملی کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ چونکہ یہ منصوبہ غزہ پر مرتکز ہے، مگر فلسطینی ریاست کا سوال باقی ہے، اس لیے یہ ایک ’’ٹکڑوں کا امن‘‘ ہو سکتا ہے، نہ مکمل حل۔ لہٰذا میں یہ کہوں گا کہ یہ منصوبہ اگر کامیابی سے نافذ ہو جائے، بین الاقوامی فورس مؤثر ہو، وعدے پورے ہوں، عوامی تعاون ملے تو ایک وقتی، محدود امن لائے گا۔ مگر اگر کوئی سنگِ بنیاد حصہ ناکام ہو جائے، تو یہ شکست کی طرف زیادہ مائل ہوگا۔

یہ منصوبہ فی الحال ایک عارضی امن اور محدود سکون فراہم کر سکتا ہے، مگر اسے مکمل اور پائیدار حل نہیں کہا جا سکتا۔ چونکہ یہ زیادہ تر اسرائیل اور امریکا کے حق میں بنایا گیا ہے، اس لیے فلسطینی عوام کی نظر میں یہ سرنڈر پلان محسوس ہوتا ہے۔ ماضی کی طرح اگر اسرائیل نے وعدوں کی خلاف ورزی کی اور اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھیں، تو یہ منصوبہ بھی چند مہینوں کی جنگ بندی کے بعد ناکامی اور مزید خونریزی میں بدل سکتا ہے۔

غزہ کے ہر گھر کی دیوار اب ایک سوال پہ کھڑی ہے: کیا یہ کاغذ، یہ ۲۰ نکات، ہمارے بچوں کی لاشوں کا بدل ہوں گے یا پھر انہیں امن کے نام پر دوبارہ دھکیل دیا جائے گا؟ ہم وہ قومیں نہیں جو صرف وعدوں پر جیئیں ہم وہ لوگ ہیں جن کے قبریں ان باتوں کی گواہی دیتی ہیں جو کبھی وعدہ رہ گئیں۔ اگر امن حقیقی ہوگا تو وہ صرف کاغذ پر نہیں آئے گا؛ وہ آئے گا جب ایک ماں کو یقین ہو کہ اس کے بچے کی قبر کے پاس دوبارہ موت کا خوف نہیں، جب ایک باپ کو یقین ہو کہ اس کا بیٹا اسکول جا سکے گا، جب غزہ کے بازاروں میں پھر ہنسی سنائی دے نہ کہ صرف عالمی فورمز پر اعداد و شمار اور لکیروں کے پیچھے چھپا ہوا ایک نیا سرنڈر۔

ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ اس سے پہلے یہ گھنائونا کھیل بوسنیا میں بھی کھیلا گیا ہے جب ان سے کہا گیا کہ: اپنے اسلحے ہمیں دے دو تاکہ ہم تمہیں بے بس جانوروں کی طرح کاٹ ڈالیں اور تمہاری زمینوں پر قبضہ جما لیں۔ اگر ہم نے بوسنیا میں ہونے والے مظالم کو نہیں سمجھا تو ہم کبھی بھی غزہ میں جاری تباہی کو نہیں سمجھ پائیں گے۔ پہلے بوسنیا کے سانحے کو سمجھیں، پھر غزہ کی حقیقت ہمارے سامنے خود کھل جائے گی۔ صربوں نے بوسنیا کے مسلمانوں پر جو قیامت ڈھائی، اس میں تین لاکھ مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، ساٹھ ہزار عورتوں اور بچوں کی عصمتیں لوٹ لی گئیں، پندرہ لاکھ مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال کر در بدر کر دیا گیا۔ کیا ہمیں وہ دن یاد ہیں؟ یا ہم بھول گئے ہیں؟ یا شاید ہم نے کبھی جانا ہی نہیں کہ ان پر کیا بیتی؟

آج تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرا رہی ہے، بس نام بدل گئے ہیں، چہرے بدل گئے ہیں۔ آج کہا جا رہا ہے کہ حماس اپنے ہتھیار رکھ دے تاکہ یہودی انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح کاٹ ڈالیں، اور بدقسمتی سے کچھ مسلم حکومتیں بھی اس خونیں منصوبے کی حمایت کر رہی ہیں۔ تاریخ کے یہ قصے بچوں کو سلانے کے لیے نہیں بلکہ مردوں کو جگانے کے لیے سنائے جاتے ہیں۔

اگر بین الاقوامی شراکت دار اور طاقتیں واقعی ’’امن‘‘ چاہتی ہیں تو انہیں صرف ڈیڑھ سیکنڈ کی تصویروں اور پریس کانفرنس کے بعد بھول جانا نہیں چاہیے انہیں غزہ کی مٹی کی جراحت محسوس کرنی ہوگی۔ تبھی یہ ۲۰ نکات انسانیت کے نام ایک نعمت بن سکتے ہیں، ورنہ یہ صرف طاقت کی وہ زبان رہ جائیں گے جس نے پہلے بھی وعدوں کے پردے میں خون بہایا ہے۔

دلشاد عالم.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسرائیل نے یہ منصوبہ ہو جائے سکتا ہے ہیں کہ

پڑھیں:

عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر

وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی عوامی مقبولیت ختم ہو چکی ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ انہیں رہا کر دیا جائے تاکہ یہ حقیقت سب کے سامنے آ جائے۔

وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کل نہیں بلکہ آج ہی رہا ہو جائیں تاکہ ان کی مقبولیت اور سیاسی حیثیت کے بارے میں تمام قیاس آرائیاں ختم ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: مجھے پہلی دفعہ 10 روپے عیدی ملی تھی، صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر

انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جیل میں رکھ کر غیر ضروری طور پر ایک تاثر پیدا کیا جا رہا ہے اس لیے انہیں باہر آنا چاہیے تاکہ سب کو حقیقت کا اندازہ ہو جائے اور یہ بحث بھی ختم ہو جائے۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ عمران خان جب چاہیں رہا ہو سکتے ہیں وہ حقائق کے برعکس بات کرتے ہیں۔ ان کے بقول یہ تاثر درست نہیں کہ عمران خان خود رہائی نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی جیل کاٹ چکے ہیں اور ان کے تجربے کے مطابق جب کسی قیدی کو قانونی طور پر رہائی کا موقع ملتا ہے تو وہ فوری طور پر اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ عمران خان کو اس وقت رہائی کا کوئی موقع میسر نہیں آ رہا۔ عمران خان جیل میں نسبتاً بہتر سہولیات کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں جہاں ان کے لیے متعدد بیرکس مختص ہیں جن میں ورزش اور چہل قدمی کی سہولت بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن بھارت کو جنگ کے میدان میں شکست دی ہے، لیکن اب ہمیں معاشی جنگ جیتنے کے لیے سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔

عمران نذیر نے کہاکہ چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا نام پاکستان ہے، صحت اور تعلیم کے شعبے پہلے بھی وفاق کے پاس تھے لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ صوبوں میں یہ محکمے موجود نہیں تھے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پنجاب سے ہمیشہ قربانی مانگی جاتی ہے، ہمارا این ایف سی شیئر 58 فیصد بنتا ہے، لیکن ہمیں 51 فیصد ملا۔

انہوں نے کہاکہ دیگر صوبے آبادی کم کرنے کے بجائے بڑھا رہے ہیں تاکہ این ایف سی شیئر بڑھ جائے، لیکن اگر آبادی رکے گی نہیں تو اس کا نقصان پاکستان کو ہونا ہے۔

وزیر صحت پنجاب نے کہاکہ بحیثیت سیاسی کارکن مجھے عمران خان سمیت ہر سیاسی کارکن کی قید کا دکھ ہے، لیکن سیاسی کارکنوں کو بھی ریڈلائن کراس نہیں کرنی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہاکہ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان صرف سیاسی قیدی ہیں، 190 ملین پاؤنڈ کیس اور فارن فنڈنگ کیس ایک حقیقت ہے۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان کو جیل میں سہولیات میسر ہیں، لیکن کبھی نواز شریف، شہباز شریف یا کسی اور نے یہ نہیں کہاکہ عمران خان میں تمہارا اے سی اتاروں گا۔ لیڈر آتے جاتے رہتے ہیں، پاکستان تھا، ہے اور رہے گا۔

مزید پڑھیے: عیدالاضحیٰ پر کامیاب صفائی آپریشن: پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے لیے خراجِ تحسین کی قرارداد

خواجہ عمران نذیر نے ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2006 میں ان کی ملاقات امریکا کی سابق وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس سے ہوئی تھی اور اس وقت امریکا پاکستان کے شمالی علاقوں میں غریب افراد کی فلاح و بہبود کے لیے ایک پروگرام شروع کر رہا تھا۔

وزیر صحت نے بتایا کہ انہوں نے ملاقات کے دوران کونڈولیزا رائس سے کہا کہ پاکستان میں منصوبے شروع کرنے کے بجائے امریکا کو پہلے اپنے ملک میں غربت اور بے گھری کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ وہاں بھی بڑی تعداد میں ضرورت مند افراد موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے اس تبصرے پر کونڈولیزا رائس نے ناراضی کا اظہار کیا اور ان کی شکایت امریکی محکمہ خارجہ (اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ) سے کر دی جس کے بعد انہیں تقریباً 2،3 سال مختلف سرکاری تقریبات اور پروگراموں میں مدعو نہیں کیا گیا۔

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ بعض اوقات سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر حقائق کے برعکس خبریں پھیلائی جاتی ہیں۔ میاں چنوں کے تحصیل ہیڈکوارٹر (ٹی ایچ کیو) اسپتال میں ایک ڈاکٹر سے متعلق سامنے آنے والے واقعے کی مکمل تحقیقات کی گئیں تاہم الزامات درست ثابت نہیں ہوئے۔

ان کے مطابق متعلقہ ڈاکٹر نے مریض کے ساتھ کوئی نازیبا حرکت نہیں کی تھی اور طبی معائنے کے دوران تمام مقررہ طبی ضابطوں اور پروٹوکولز پر عمل کیا گیا تھا۔    مریض کی بیماری اور علامات کے مطابق ہی اس کا معائنہ اور علاج کیا جاتا ہے اس لیے ایسے معاملات کو بلاجواز غلط رنگ دینا مناسب نہیں۔

مزید پڑھیں: ستھرا پنجاب اور سیف سٹی کا کامیاب آپریشن، ایک لاکھ 20 ہزار ٹن سے زائد ویسٹ کلیکشن

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ محکمہ صحت میں صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق ان سے بھی بہتر کام کر رہے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی توجہ کے باعث صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مریم نواز کے منصب سنبھالنے سے قبل تقریباً 16 ہزار بچوں کی دل کی سرجریاں التوا کا شکار تھیں تاہم گزشتہ ڈھائی برس کے دوران یہ تعداد کم ہو کر صرف 2 سے 3 ہزار رہ گئی ہے۔

ان کے مطابق اس عرصے میں تقریباً 14 ہزار بچوں کی کامیاب دل کی سرجریاں کی جا چکی ہیں جس کا کریڈٹ وزیراعلیٰ مریم نواز کو جاتا ہے۔ اب پنجاب کے مختلف اضلاع کے سرکاری اسپتالوں میں دل کے امراض کے علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے جبکہ اسٹنٹ ڈالنے کی سہولت بھی ہر ضلع تک توسیع دی جا رہی ہے۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ صوبے بھر کے اسپتالوں میں جدید طبی سہولیات، بشمول ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشینیں، فراہم کی جا چکی ہیں جس سے عوام کو بہتر طبی خدمات میسر آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں واضح بہتری آئی ہے تاہم تنقید کرنا بعض لوگوں کا کام ہے اور وہ اپنی رائے دیتے رہیں گے۔

خواجہ عمران نذیر نے دعویٰ کیا کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ تحریک انصاف نے سنہ 2014 میں صحت کارڈ پروگرام شروع کیا تھا تو وہ سیاست چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: مریم نواز کا کامیاب آپریشن، عید کے روز بھی سرکاری امور کی نگرانی جاری

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنما اور وزیر اطلاعات شفیع جان کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ صحت کارڈ کا آغاز سنہ 2014 میں تحریک انصاف نے کیا تھا۔ ان کے بقول صحت کارڈ پروگرام کی بنیاد سابق وزیراعظم نواز شریف نے رکھی تھی اور اسی دور میں اس منصوبے کو عملی شکل دی گئی۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ صحت کارڈ کے حوالے سے حقائق کو مسخ کیا جا رہا ہے جبکہ اس منصوبے کا اصل کریڈٹ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو جاتا ہے۔

خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ کلینک آن ویلز منصوبے کے ذریعے اب تک تقریباً ڈھائی کروڑ مریضوں کو ان کی دہلیز پر طبی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔ ان کے بقول حکومت صحت کے شعبے میں مسلسل کام کر رہی ہے، تاہم اس کے باوجود بعض حلقے بلاجواز تنقید اور الزامات عائد کرتے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر عوامی خدمت کے باوجود کبھی کرپشن کے الزامات لگائے جاتے ہیں اور کبھی منصوبوں پر بے بنیاد اعتراضات اٹھائے جاتے ہیں جس سے انہیں اور ان کی ٹیم کو دکھ پہنچتا ہے۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے پاس ان کے خلاف کرپشن کے ٹھوس شواہد موجود ہیں تو وہ متعلقہ عدالتوں یا اداروں سے رجوع کرے تاہم بغیر ثبوت الزامات اور بہتان تراشی سے گریز کیا جانا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں خواجہ عمران نذیر نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے عملی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے سے قبل چند قریبی ساتھیوں سے مشاورت کی تھی جن میں سینیٹر پرویز رشید اور وہ خود بھی شامل تھے۔ ان کے بقول اس وقت وہ مسلم لیگ (ن) لاہور کے سیکریٹری جنرل کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال رہے تھے اور انہوں نے مریم نواز کو سیاسی طور پر زیادہ متحرک کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

خواجہ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ انہیں وزیراعلیٰ پنجاب سے کھل کر بات کرنے کی آزادی حاصل ہے اور شاید کابینہ میں کسی اور وزیر کو اتنی گنجائش میسر نہیں جتنی انہیں حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بعض اوقات سخت اور دوٹوک انداز میں بھی اپنی رائے پیش کرتے ہیں تاہم مریم نواز ان کی بات تحمل سے سنتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ وزیراعلیٰ کے پاس کسی بھی وزیر کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا اختیار موجود ہے لیکن مریم نواز تنقید اور مختلف آرا سننے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ ان کے بقول مریم نواز انتظامی معاملات میں سخت مزاج بھی ہیں تاہم اچھا کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں اور شفقت سے پیش آتی ہیں۔

مزید پڑھیں: مریم نواز کو ہتک عزت بل سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر

خواجہ عمران نذیر نے مزید کہا کہ مریم نواز خود کو ’عقلِ کل‘ نہیں سمجھتیں بلکہ مشاورت اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر اپنی دانست میں بہترین فیصلے کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

صحت کارڈ صحت کارڈ منصوبہ عمران خان عمران خان کی مقبولیت نواز شریف وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا