Jasarat News:
2026-07-24@07:43:54 GMT

ٹرمپ امن منصوبہ، امن یا حماس کے لیے سرنڈر کی شرط؟

اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251010-03-6

 

دلشاد عالم

آخری حصہ

اگر حماس ان نکات کی قبولیت سے انکاری ہو جائے، یا صرف جزوی قبول کرے، تو منصوبہ عملی شکل نہ لے پائے گا۔ بعض نکات بہت مبہم ہیں مثال کے طور پر ’’جب غزہ کی تعمیر ہو جائے، تب فلسطینی ریاست کا امکان‘‘ اس میں وقتی تعطل اور اختلافِ رائے کا بہت امکان ہے۔ عوام اور مسلح گروہ دونوں میں شدید نفرت، انتقامی رجحان، اور امن مخالف نظریے پائے جاتے ہیں۔ ان کو تبدیل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اگر اسرائیل، امریکا، یا نمائندہ بین الاقوامی فورس وعدے پورے نہ کریں، یا حماس کے کچھ افراد مزاحمت کریں، تو منصوبہ ناکام ہوسکتا ہے۔ یہ منصوبہ صرف غزہ کا معاملہ ہے؛ اگر غربِ اردن، یروشلم، فلسطینی ریاست کا سوال حل نہ ہو تو پورا تنازع برقرار رہے گا۔ یہ کہنا درست ہے کہ اگرچہ یہ منصوبہ امن کی امید ظاہر کرتا ہے، اس کی کامیابی تقریباً ’’متعدد اجزاء کی درست ترتیب‘‘ پر منحصر ہے۔ اگر ایک بھی اہم جزو غلط ہو جائے، یہ شکست کی طرف مائل ہوگا۔

کیا یہ منصوبہ دراصل شکست ہو گا یا امن لائے گا؟ میری اپنی بصیرت یہ ہے کہ یہ منصوبہ امکاناً جزوی عمل درآمد کے ساتھ ایک عبوری امن فراہم کر سکتا ہے، مگر وہ مکمل اور پائیدار امن نہیں ہوگا، اور بہت ممکن ہے کہ وہ ’’موقوف جنگ بندی اور محدود بحالی‘‘ کی شکل اختیار کرے، نہ کہ پورے تنازع کا حل۔ اس منصوبے نے حماس کو مکمل تسلیم کرنے کی سخت شرط رکھی ہے، اور وہ شرطیں ایسی ہیں کہ حماس اپنا سیاسی و عسکری ہتھیار تقریباً خود تحلیل کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ بہت سی شقیں اس پر مبنی ہیں کہ حماس ’’نئے غزہ‘‘ کو قبول کرے اور مکمل سیاسی قوت سے دستبردار ہو جائے۔ اگر حماس سخت موقف اختیار کرے، اس منصوبے کا رد یا تاخیر ممکن ہے، اور پھر اسرائیل دوبارہ عسکری دبائو استعمال کرے گا۔ اگر کوئی فریق وعدوں پر عمل نہ کرے، یا امن فورس مؤثر نہ ہو، تو امن خطرے میں ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ اسرائیل نے اس طرح کے امن معاہدے کیے ہوں۔ ماضی کی مثالیں اس منصوبے کے خدشات کو اور بڑھاتی ہیں: اسلو معاہدے (1993–95) کے بعد بھی اسرائیل نے بستیوں کی توسیع جاری رکھی۔ غزہ ڈس انگیج منٹ (2005) میں انخلا کے باوجود اسرائیل نے مکمل محاصرہ لگا دیا، اور ہر آمد و رفت اپنے کنٹرول میں رکھی۔ شام اور دیگر ملکوں سے معاہدوں کے باوجود اسرائیل نے عسکری کارروائیاں جاری رکھیں۔ حالیہ برسوں میں بھی جنگ بندی کے باوجود اسرائیل نے غزہ پر حملے جاری رکھے اور 65 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کیا اور جو لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں اگر ان کی تعداد بھی شامل کر لی جائے تو لگ بھگ دو لاکھ کے قریب بنتی ہے یعنی 10 فی صد کے قریب لوگوں کو آپ نے زندگی سے خالی کر دیا، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ معاہدوں کو محض وقتی حکمت ِ عملی کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ چونکہ یہ منصوبہ غزہ پر مرتکز ہے، مگر فلسطینی ریاست کا سوال باقی ہے، اس لیے یہ ایک ’’ٹکڑوں کا امن‘‘ ہو سکتا ہے، نہ مکمل حل۔ لہٰذا میں یہ کہوں گا کہ یہ منصوبہ اگر کامیابی سے نافذ ہو جائے، بین الاقوامی فورس مؤثر ہو، وعدے پورے ہوں، عوامی تعاون ملے تو ایک وقتی، محدود امن لائے گا۔ مگر اگر کوئی سنگِ بنیاد حصہ ناکام ہو جائے، تو یہ شکست کی طرف زیادہ مائل ہوگا۔

یہ منصوبہ فی الحال ایک عارضی امن اور محدود سکون فراہم کر سکتا ہے، مگر اسے مکمل اور پائیدار حل نہیں کہا جا سکتا۔ چونکہ یہ زیادہ تر اسرائیل اور امریکا کے حق میں بنایا گیا ہے، اس لیے فلسطینی عوام کی نظر میں یہ سرنڈر پلان محسوس ہوتا ہے۔ ماضی کی طرح اگر اسرائیل نے وعدوں کی خلاف ورزی کی اور اپنی عسکری کارروائیاں جاری رکھیں، تو یہ منصوبہ بھی چند مہینوں کی جنگ بندی کے بعد ناکامی اور مزید خونریزی میں بدل سکتا ہے۔

غزہ کے ہر گھر کی دیوار اب ایک سوال پہ کھڑی ہے: کیا یہ کاغذ، یہ ۲۰ نکات، ہمارے بچوں کی لاشوں کا بدل ہوں گے یا پھر انہیں امن کے نام پر دوبارہ دھکیل دیا جائے گا؟ ہم وہ قومیں نہیں جو صرف وعدوں پر جیئیں ہم وہ لوگ ہیں جن کے قبریں ان باتوں کی گواہی دیتی ہیں جو کبھی وعدہ رہ گئیں۔ اگر امن حقیقی ہوگا تو وہ صرف کاغذ پر نہیں آئے گا؛ وہ آئے گا جب ایک ماں کو یقین ہو کہ اس کے بچے کی قبر کے پاس دوبارہ موت کا خوف نہیں، جب ایک باپ کو یقین ہو کہ اس کا بیٹا اسکول جا سکے گا، جب غزہ کے بازاروں میں پھر ہنسی سنائی دے نہ کہ صرف عالمی فورمز پر اعداد و شمار اور لکیروں کے پیچھے چھپا ہوا ایک نیا سرنڈر۔

ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ اس سے پہلے یہ گھنائونا کھیل بوسنیا میں بھی کھیلا گیا ہے جب ان سے کہا گیا کہ: اپنے اسلحے ہمیں دے دو تاکہ ہم تمہیں بے بس جانوروں کی طرح کاٹ ڈالیں اور تمہاری زمینوں پر قبضہ جما لیں۔ اگر ہم نے بوسنیا میں ہونے والے مظالم کو نہیں سمجھا تو ہم کبھی بھی غزہ میں جاری تباہی کو نہیں سمجھ پائیں گے۔ پہلے بوسنیا کے سانحے کو سمجھیں، پھر غزہ کی حقیقت ہمارے سامنے خود کھل جائے گی۔ صربوں نے بوسنیا کے مسلمانوں پر جو قیامت ڈھائی، اس میں تین لاکھ مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا، ساٹھ ہزار عورتوں اور بچوں کی عصمتیں لوٹ لی گئیں، پندرہ لاکھ مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال کر در بدر کر دیا گیا۔ کیا ہمیں وہ دن یاد ہیں؟ یا ہم بھول گئے ہیں؟ یا شاید ہم نے کبھی جانا ہی نہیں کہ ان پر کیا بیتی؟

آج تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرا رہی ہے، بس نام بدل گئے ہیں، چہرے بدل گئے ہیں۔ آج کہا جا رہا ہے کہ حماس اپنے ہتھیار رکھ دے تاکہ یہودی انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح کاٹ ڈالیں، اور بدقسمتی سے کچھ مسلم حکومتیں بھی اس خونیں منصوبے کی حمایت کر رہی ہیں۔ تاریخ کے یہ قصے بچوں کو سلانے کے لیے نہیں بلکہ مردوں کو جگانے کے لیے سنائے جاتے ہیں۔

اگر بین الاقوامی شراکت دار اور طاقتیں واقعی ’’امن‘‘ چاہتی ہیں تو انہیں صرف ڈیڑھ سیکنڈ کی تصویروں اور پریس کانفرنس کے بعد بھول جانا نہیں چاہیے انہیں غزہ کی مٹی کی جراحت محسوس کرنی ہوگی۔ تبھی یہ ۲۰ نکات انسانیت کے نام ایک نعمت بن سکتے ہیں، ورنہ یہ صرف طاقت کی وہ زبان رہ جائیں گے جس نے پہلے بھی وعدوں کے پردے میں خون بہایا ہے۔

دلشاد عالم.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسرائیل نے یہ منصوبہ ہو جائے سکتا ہے ہیں کہ

پڑھیں:

’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔

قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔

بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم