اسلام آباد اور راولپنڈی میں ڈینگی کے وار، کیسز میں مسلسل اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
راولپنڈی اور اسلام آباد ڈینگی مچھروں کے حملے کی لپیٹ میں ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ضلع راولپنڈی میں نئے 19 مریض سے ڈینگی مریضوں کی تعداد 908 ہوگئی۔ پرائیویٹ ہسپتالوں میں ڈینگی مریضوں کی تعداد 1 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ اب تک ڈینگی لاروا ملنے پر 4505 مقدمات درج 1860 گھر سیل کئے۔ کُل 3528 چالان اور 1 کروڑ دس لاکھ روپے جرمانہ کیا گی۔ا دوسری جانب اسلام آباد میں بھی ڈینگی کے خاتمے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی یومیہ کاروائیاں جاری ہیں۔ ڈینگی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی یومیہ مانیٹرنگ رپورٹ جاری کی گئی جس میں بتایا گیا کہ فیلڈ عملے کی جانب سے 1192 رسک ایریاز اور 2602 دیگر مقامات پر فوگنگ کی گئی۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسلام آباد بھر سے ڈینگی کے 40 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ دیہی علاقوں سے 29 اور شہری علاقوں سے 11 مریض رپورٹ ہوئے۔ متاثرہ افراد میں سے 34 مریضوں کو مختلف اسپتالوں میں داخل کیا گیا۔ انسپیکشن کے دوران 1014 مقامات پر لاروا پازیٹیو جبکہ 24 مقامات پر نیگیٹو پایا گیا۔ ضلعی انتظامیہ اسلام آباد نے ڈینگی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام محکموں کے ساتھ کوآرڈینیشن برقرار رکھا ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ انسداد ڈینگی ٹیمز کی جانب سے مختلف سرکاری و غیر سرکاری دفاتر میں بھی فوگنگ کی گئی۔ ہائی رسک زون میں انسداد ڈینگی آپریشنز مزید تیز کر دیے گئے ہیں اور انسداد ڈینگی ایس او پیز پر کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ انتظامیہ نے مزید کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر تمام یونین کونسلز اور سیکٹرز میں کارروائیاں جاری رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ضلعی انتظامیہ ڈینگی کے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔