ویب ڈیسک: سوسائٹی آف ائیرکرافٹ انجینئرز پاکستان (سیپ) کے عہدیدار قومی ائیرلائن انتظامیہ کے غلط فیصلوں پر پھٹ پڑے۔

جنرل سیکرٹری سیپ اویس جدون کا کہنا ہے کہ طیاروں کی مرمت میں سنگین کوتاہی اور غیر تیکنیکی فیصلوں نے پی آئی اے کے جہازوں کو کباڑ خانہ بنادیا، 34 طیاروں کا بیڑا پہلے 16 اور اب 12 طیاروں پر آگیا۔ 

انہوں نے کہا کہ فضائی بیڑے کی تباہی کے ذمہ دار ہم نہیں بلکہ پی آئی اے انتظامیہ ہے، مسافروں کے جان و مال کے تحفظ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے، لینڈنگ گئیر تبدیل نہ ہونے کی وجہ سے  پی آئی اے کا کینیڈا  آپریشن بند ہوا، لینڈنگ گئیرتبدیل  کرنے کیلئے 3 ماہ ملے لیکن پی آئی اے انتظامیہ نے لینڈنگ گئیر نہیں منگوائے۔

کیا نئے ججز کسی اور ملک سے لاکر لگائے گئے ہیں؟ جسٹس جمال مندوخیل

اویس جدون کے مطابق جرمنی سے چارٹر طیارے سے لینڈنگ گیئر منگوائے گئے لیکن اس میں ٹولز نہیں تھے، طیارہ ابھی تک ہینگر میں گراونڈ ہے، بوئنگ 777 ساختہ طیارے کے لیے غلط اور غیرمروجہ طریقہ کار اختیار کرنے کی وجہ سے اس کے ناکارہ ہونے کا خدشہ ہے۔

اویس جدون نے کہا کہ نااہل انتظامیہ کی وجہ سے قومی ائیر لائن تباہی کے دہانے پر ہے، سنگین فنی خرابیوں کے باوجود انجینئرز پر طیاروں کو پرواز کیلئے کلیئر کرنے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے، اس وقت ائیرکرافٹ انجینئرز انتہائی دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔ 7 اکتوبر کو ٹورنٹو پرواز کے طیارے میں فنی خرابی رپورٹ کرنے پر انجینئر کو زدوکوب کیا گیا۔

سعودی عرب نے پاکستانی ڈاکٹرز اور نرسز کیلئے ملازمتوں کا اعلان کر دیا، جانئے درخواست کیسے دیں

سوسائٹی آف ائیرکرافٹ انجینئر کے صدر عبداللہ خان نے کہا کہ جو انجینئرز سیفٹی کے قوانین پر عمل کرتے ہیں ان کی اے سی آر خراب کی جا رہی ہے، انجنوں، لینڈنگ گئیرز کی وجہ سے جہاز بجائے اڑنے کے ہینگر میں کھڑے ہیں، انجن تو بہت مہنگی چیز ہے، فاضل پرزہ جات کی قلت کے سبب عام پرزوں کی  تبدیلی ممکن نہیں ہے۔

عبداللہ خان نے کہا کہ مسلسل پرزہ جات دیگر جہازوں سے نکالنے کےلیے دباؤ ڈالاجاتا ہے، پی آئی اے  جہاز پرایک کمپوننٹ لگانے کے بعد انجینئر کو ٹیگ پر دستخط کرنے کا کہا گیا،انجینئر نے ناقص پرزے پر سائن کرنے سے منع کیا تو ایک غیر متعلقہ آفیسر نے خود اس پر دستخط کردیے، آج بھی جہاز بغیر وردینس کے اڑ رہا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

لاہور :طب کے میدان میں بڑا سنگ میل عبور، گھرکی ٹرسٹ ٹیچنگ ہسپتال نے عالمی ریکارڈ قائم کر دیا

عبداللہ خان نے کہا کہ انجینئرز آج دوبارہ برملا کہتے ہیں کہ پی آئی اے کی نجکاری کے قطعی خلاف نہیں ہیں، ہمیں تو پی آئی اے کا مستقل مالک چاہیئے جو آکر ان بدترین حالات کو سنبھالے، سرٹیفکیٹ آف اتھاریزیشن اس وقت تک معطل رکھیں گے جب تک ایک محفوظ اور پیشہ ورانہ دباؤ سے پاک ماحول کی ضمانت نہیں ملتی۔

Ansa Awais Content Writer.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: ائیرکرافٹ انجینئر نے کہا کہ پی آئی اے کی وجہ سے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف