دبئی سے گرفتار گینگسٹر طیفی بٹ لاہور پولیس کی حراست میں مبینہ طور پر ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
لاہور کے معروف گینگسٹر طیفی بٹ پولیس حراست میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، پولیس نے طیفی بٹ کو امیر بالاج قتل کیس میں تفتیش کے لیے دبئی سے گرفتار کر کے پاکستان منتقل کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے: طیفی بٹ کے بہنوئی کو قتل کرنے والے ملزمان گرفتار، سنسنی خیز انکشافات
رپورٹس کے مطابق، طیفی بٹ کو تفتیش کے سلسلے میں لاہور لایا جا رہا تھا کہ رحیم یار خان کے نواحی علاقے احمدپور لمہ روڈ پر 2 مسلح حملہ آوروں نے پولیس وین پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں طیفی بٹ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
پولیس نے لاش کو اپنی تحویل میں لے کر ابتدائی تفتیش شروع کر دی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: لاہور، طیفی بٹ کے بہنوئی کو قتل کرنے والے شوٹر کی تصاویر سامنے آگئیں
رپورٹس کے مطابق، طیفی بٹ کا اصل نام خواجہ تعریف گلشن تھا اور وہ لاہور کے ایک معروف گینگ نیٹ ورک سے تعلق رکھتا تھا۔
وہ گزشتہ کئی برسوں سے قبضہ مافیا، بھتہ خوری اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے سمیت متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
طیفی بٹ گینگ وار لاہور پولیس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: طیفی بٹ گینگ وار لاہور پولیس طیفی بٹ
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔