سعودی عرب نے عالمی سطح پر باصلاحیت شخصیات کو اپنی صفوں میں شامل کرنے کی پالیسی کے تحت امریکی بزنس مین ٹراوس کالانک اور جون باگانو کو سعودی شہریت دینے کا اعلان کیا ہے۔

شاہی فرمان کے مطابق یہ اقدام سعودی وژن 2030 کے اہداف کے تحت کیا گیا ہے جس کا مقصد تخلیقی ذہنوں کو بااختیار بنانا، عالمی ماہرین کو راغب کرنا اور مختلف شعبوں میں نمایاں تجربات کو قومی ترقی کے عمل کا حصہ بنانا ہے تاکہ علم و جدت پر مبنی معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان آئی ٹی اور کھیلوں میں تعاون کے معاہدے

ٹراوس کالانک، جو اوبر کے شریک بانی ہیں، نے اس کمپنی کو ایک چھوٹے اسٹارٹ اپ سے عالمی سطح کی اربوں ڈالر مالیت کی کمپنی میں تبدیل کیا۔ وہ اس وقت کلاؤڈ کچنز کے سی ای او ہیں، جو مشرقِ وسطیٰ میں ‘کچن پارک’ کے نام سے کام کر رہی ہے۔

کالانک نے نامی سرمایہ کاری فنڈ بھی قائم کیا ہے جو رئیل اسٹیٹ، ای کامرس اور اختراعات کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ہر قسم کے ویزا ہولڈر عمرہ کے مناسک ادا کر سکتے ہیں، سعودی عرب کا اعلان

دوسری جانب، جون باگانو کو سیاحت اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کے شعبے میں 40 سال سے زائد کا تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے بہاماز میں باہا مار ریزورٹ کے 3.

6 ارب ڈالر کے منصوبے کی نگرانی کی جبکہ وہ اب ریڈ سی اور امالا منصوبوں کی قیادت کر رہے ہیں۔

انہیں فوربز مشرقِ وسطیٰ 2024 کی ‘سفر و سیاحت کے قائدین’ کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اوبر ریڈ سی سعودی عرب شہریت

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اوبر ریڈ سی شہریت

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی،عالمی منڈی میں خام تیل 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی