وزیر داخلہ محسن نقوی سے تبلیغی جماعت کے وفد کی ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے تبلیغی جماعت کے وفد نے ملاقات کی اور نومبر میں ہونے والے سالانہ تبلیغی اجتماع کی تیاریوں سے متعلق آگاہ کیا۔
وفد میں انوار غنی، اقبال میاں، محمد عامر اور زاہد پراچہ شامل تھے، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، چیف کمشنر و آئی جی اسلام آباد بھی اس موقع پر موجود تھے۔
تبلیغی جماعت کے وفد نے وزیر داخلہ کو نومبر میں ہونے والے سالانہ تبلیغی اجتماع کی تیاریوں سے متعلق آگاہ کیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ اجتماع کے انعقاد میں وزارت داخلہ کی جانب سے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا، اجتماع میں شرکت کیلئے آنے والے غیر ملکی وفود کو ویزا کے حصول میں مکمل سہولت فراہم کی جائے گی، گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی ائیر پورٹس پر سپیشل کاؤنٹر قائم کیے جائیں گے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اسلام کی تبلیغ کیلئے سہولت اور آسانی فراہم کرنا ہمارا فرض ہے اور ثواب کا کام ہے۔
تبلیغی وفد نے کہا کہ پچھلے سال 108 ممالک سے لگ بھگ 15 ہزار سے زائد بین الاقوامی شرکا سالانہ اجتماع میں شریک ہوئے، ملاقات کے آخر میں سیلاب زدگان اور ملکی ترقی و سلامتی کیلئے خصوصی دعا بھی کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزیر داخلہ
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔