پاک سعودی معاہدے کو روحانی اور اعزاز سمجھتے ہیں، مریم نواز کا سعودی تجارتی وفد سے خطاب
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
لاہور میں پاکستان سعودی بزنس کونسل کے خصوصی وفد کے اعزاز میں تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خطاب کیا۔
اس موقع پر انہوں نے عربی میں مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اپنے دوسرے گھر سعودی عرب کے مہمانوں کی میزبانی اعزاز کی بات ہے، سعودی عرب سے تعلقات صرف سیاسی و معاشی نہیں بلکہ روحالی اور ابدی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سعودی پاک جوائنٹ بزنس کونسل کے وفد کی لاہور آمد، وزیراعلیٰ مریم نواز کی جانب سے پرتپاک استقبال
مریم نواز نے کہا کہ سعودی عرب نے پوری امت کا سر فخر سے بلند کیا ہے، رمضان میں سعودی عرب کے دورے کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات ہوئی، ان کی قائدانہ صلاحیتوں اور وژن کی وجہ سے سعودی عرب کو ترقی کے نئے منازل طے کررہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب سے میرے والد نواز شریف کی دہائیوں پر مبنی تعلقات ہیں، مشرف کے دور میں میں 7 سال جدہ میں رہی، جدہ کو لاہور سے بہتر جانتی ہوں، ہزہائینس پرنس منصور بن محمد بن سعد السعود کا یہ پنجاب کا دوسرا دورہ ہے، آپ پاکستان کے بہترین دوست اور ہمارے مشترکہ خوابوں کے نگہبان ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان آئی ٹی اور کھیلوں میں تعاون کے معاہدے
مریم نواز نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب میں حالیہ استقبال پر ہم نے خوشی منائی، سعودی عرب سے حالیہ معاہدے پر ہم شکرگزار ہیں جو ہمارے دوطرفہ تعلقات آئینہ دار ہے، اسے ہم حرمین شریفین کی حفاظت کو ہم روحانی فرض اور اعزاز سمجھتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سعودی بھائیوں سے مختلف شعبوں میں تجارتی تعاون کے خواہاں ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مریم نواز نے کہا کہ
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔