کراچی سے چھینے گئے موبائل کہاں جاتے ہیں، انہیں واپس لینے کے لیے کیا کرنا ضروری ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
موبائل کا چھن جانا کراچی جیسے بڑے شہر میں معمول کی بات ہے یہی وجہ ہے کہ شہر قائد میں مہنگے موبائل فون رکھنے کا رجحان بہت کم ہے، لیکن موبائل چھن جانے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ اس میں موجود معلومات کا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ چوری شدہ موبائل کو واپس حاصل کرنے کے لیے کوشش کی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ موبائل فون کو حاصل کرنے کے لیے کیا کیا جائے اور آخر یہ موبائل فون جاتے کہاں ہیں؟
صدر کراچی موبائل اینڈ الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن محمد منہاج گلفام نے ’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کوئی بھی شخص جب مارکیٹ میں موبائل فون فروخت کرنے کے لیے آتا ہے کہ پہلے اس سے شناختی کارڈ طلب کیا جاتا ہے، جبکہ سی پی ایل سی تصدیق کرائی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میرا چھینا ہوا موبائل مجھے واپس کیسے ملا؟
انہوں نے کہاکہ اس کے بعد تمام معلومات لینے کے بعد موبائل فون خریدا جاتا ہے، اس طریقے پر عمل کیے بغیر موبائل مارکیٹ میں کوئی بھی شخص موبائل فون نہیں خرید سکتا۔
منہاج گلفام نے کہاکہ اسی طریقہ کی وجہ سے ہم کروڑوں روپے مالیت ہے موبائل فون سی پی ایل سی کو دے چکے ہیں، اس کے علاوہ حال ہی میں 400 موبائل فون اس طریقہ کی بنا ریکور کر چکے ہیں، جن کی مالیت ڈیڑھ کروڑ روپے سے زیادہ بنتی ہے۔
موبائل فون کراچی سے چوری ہونے کے بعد جاتے کہاں ہیں؟ اس سوال پر منہاج گلفام کا کہنا تھا جو موبائل یہاں آتا ہے وہ تو مل جاتا ہے لیکن چوری شدہ موبائل ٹریس کرنے کی صورت میں ہمیں پتا چلا کہ اس کی لوکیشن افغانستان کے شہر جلال آباد کی آرہی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہاں پر سختی ہونے کے بعد اب پسماندہ علاقوں میں چوری ہونے والے موبائل فونز کا دھندا ہوتا ہے اور ان کے پارٹس الگ الگ کرکے فروخت کیے جاتے ہیں، اور اس میں زیادہ تعداد آئی فونز کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سی پی ایل سی اور متعلقہ تھانے میں موبائل فون چوری کی شکایت درج کرائی جا سکتی ہے، کسی بھی شہری کا موبائل چوری ہونے کی صورت میں ضروری ہے کہ وہ 110 پر سی پی ایل سی میں شکایت درج کرائے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں چھینے جانے والے موبائل فون کہاں جاتے ہیں؟
’اس سے ہوتا یہ ہے کہ آپ کا ڈیٹا سی پی ایل سی پر آجاتا ہے جس سے اگر موبائل مارکیٹ میں آپ کا موبائل فون بکنے آئے گا اس کے واپس ملنے کے امکانات زیادہ ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ موبائل فون چوری ہونے کی صورت میں آپ اس کی شکایت سی پی ایل سی میں ضرور درج کریں اگر ایسا نہیں کریں گے تو آپ کے موبائل کے ملنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی فون چوری کیے گئے موبائل کی فروخت ڈکیت سی پی ایل سی شہر قائد کراچی موبائل چھن جانا موبائل مارکیٹ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی فون چوری کیے گئے موبائل کی فروخت ڈکیت سی پی ایل سی کراچی موبائل چھن جانا موبائل مارکیٹ وی نیوز سی پی ایل سی موبائل فون چوری ہونے کے بعد کے لیے
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔