پاکستان کے معروف کرکٹنگ محمد برادران میں سب سے بڑے وزیر محمد انتقال کر گئے، ان کی عمر 95 برس تھی۔

وزیر محمد نے پاکستان کی کرکٹ کے ابتدائی دور میں 20 ٹیسٹ میچز کھیلے تھے، یہ تعداد ان کے بھائیوں حنیف، مشتاق اور صادق محمد سے کم تھی۔

محمد برادران میں اب سب سے بڑے رئیس محمد ہیں جنہوں نے کبھی پاکستان کی نمائندگی نہیں کی، جبکہ حنیف محمد 2016 میں وفات پا چکے ہیں۔

The PCB is deeply saddened by the passing of former Pakistan Test batter Wazir Mohammad.

One of the four Mohammad brothers to represent Pakistan in Test cricket, he featured in 20 matches for his country from 1952 to 1959.

The PCB extends its heartfelt condolences to his family… pic.twitter.com/DarMeMYLW4

— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) October 13, 2025

وزیر محمد مڈل آرڈر بلے باز تھے، جن کا ٹیسٹ اوسط 27.62 رہا، جو اگرچہ معمولی دکھائی دیتا ہے، لیکن 1950 کی دہائی میں پاکستان کی ابتدائی فتوحات میں ان کا کردار بہت نمایاں تھا۔

ان کا فرسٹ کلاس اوسط 40 رہا، جو ان کی اصل صلاحیت کو بہتر طور پر ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کے پہلے کپتان عبدالحفیظ کاردار ان کے بڑے مداح تھے۔

وزیر محمد کی سب سے یادگار اننگز 1954 میں انگلینڈ کے خلاف دی اوول ٹیسٹ میں سامنے آئی، جب پاکستان نے اپنی پہلی انگلینڈ سیریز میں ایک تاریخی کامیابی حاصل کی۔

یہ بھی پڑھیں:سابق ٹیسٹ کرکٹر وزیر محمد 95 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

یہ پہلا موقع تھا جب کسی ٹیم نے انگلینڈ کے پہلے دورے میں ٹیسٹ میچ جیتا۔

اگرچہ اس میچ کے ہیرو فضل محمود تھے جنہوں نے 12 وکٹیں حاصل کیں، لیکن ان کے لیے دفاع کرنے کا مجموعہ وزیر محمد کی مزاحمتی بیٹنگ کی بدولت ممکن ہوا۔

صرف 85 رنز کی برتری کے ساتھ پاکستان کی 2 وکٹیں باقی تھیں، جب وزیرمحمد نے، نمبر 8 پر بیٹنگ کرتے ہوئے، ذوالفقار احمد کے ساتھ 58 رنز کی شراکت اور محمود حسین کے ساتھ آخری وکٹ پر مزید 24 رنز جوڑے۔

مزید پڑھیں: سابق قومی ٹیسٹ کرکٹر محمد نذیر جونیئر انتقال کرگئے

وہ 4 گھنٹے میں 42 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ پاکستان نے بالآخر 24 رنز سے تاریخی کامیابی حاصل کی۔

دو سال بعد کراچی میں آسٹریلیا کے خلاف میچ میں بھی وزیر محمد نے شاندار کردار ادا کیا۔

جب پاکستان کی ٹیم 70 رنز پر 5 وکٹیں گنوا چکی تھی، تو انہوں نے کپتان عبدالحفیظ کاردار کے ساتھ 104 رنز کی پارٹنرشپ بنائی۔

مزید پڑھیں: معمر ترین بھارتی ٹیسٹ کرکٹر دتاجی راؤ گائیکواڈ چل بسے

ان کی 67 رنز کی اننگز میچ کی دوسری بڑی اننگز تھی اور پاکستان نے یہ ٹیسٹ 9 وکٹوں سے جیتا۔

وزیر محمد کی بہترین انفرادی کارکردگی 58-1957 کے ویسٹ انڈیز کے دورے میں سامنے آئی۔

اگرچہ یہ سیریز زیادہ تر گیری سوبرز کے اُس وقت کے عالمی ریکارڈ 365 رنز اور حنیف محمد کی تاریخی 337 رنز کی اننگز کی وجہ سے یاد رکھی جاتی ہے، مگر وزیر نے بھی 440 رنز بنائے، جن میں 2 سنچریاں اور ایک ناقابلِ شکست 97 شامل تھے۔

مزید پڑھیں: انگلینڈ کے بلے باز جو روٹ کا ٹیسٹ کرکٹ میں نیا عالمی ریکارڈ

ان کی پہلی سنچری 1967 تک پاکستان کی تیز ترین ٹیسٹ سنچری رہی، جبکہ آخری ٹیسٹ میں ان کی 189 رنز کی اننگز نے پاکستان کو فتح دلائی۔

اس کامیابی کے ساتھ پاکستان نے اپنے پہلے تینوں غیر ملکی دوروں میں کم از کم ایک میچ جیتنے کا کارنامہ انجام دیا۔

1950 کی دہائی کے آخر تک وزیر محمد کے ٹیسٹ کیریئر کا اختتام ہوا، کیونکہ نئی نسل کے کھلاڑی ٹیم میں جگہ بنانے لگے۔

مزید پڑھیں:ٹیسٹ کرکٹ میں جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کی پہلی کامیابی کی کہانی

انہی میں ان کے چھوٹے بھائی مشتاق محمد بھی شامل تھے، جن کے ڈیبیو میچ میں وزیر محمد نے ان کے ساتھ کھیلنے کا اعزاز حاصل کیا۔

وزیر محمد کو ان کی کرکٹ کے اعداد و شمار پر گہری گرفت کے باعث محبت سے ’وزڈن‘ کہا جاتا تھا۔

مزید پڑھیں:311 رنز کی تاریخی اننگز کھیلنے والے آسٹریلوی کرکٹ لیجنڈ بوب سمپسن انتقال کر گئے

انہوں نے 1964 تک فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔ اپنے آخری میچ، قائداعظم ٹرافی کے فائنل، میں انہوں نے 23 رنز بنائے، جب کراچی وائٹس 333 کے ہدف کے تعاقب میں صرف 18 رنز سے ہار گئی۔

وزیر محمد بعد ازاں برطانیہ کے شہر برمنگھم کے قریب مستقل طور پر منتقل ہو گئے تھے، جہاں کئی دہائیوں کے قیام کے بعد گزشہ روز وہ اس جہان قانی سے کوچ کرگئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انگلینڈ پاکستان ٹیسٹ کرکٹر ٹیسٹ کیریئر عبدالحفیظ کاردار محمد برادران مشتاق محمد وزیر محمد

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انگلینڈ پاکستان ٹیسٹ کرکٹر ٹیسٹ کیریئر عبدالحفیظ کاردار مشتاق محمد پاکستان کی پاکستان نے ٹیسٹ کرکٹر مزید پڑھیں انتقال کر ٹیسٹ کرکٹ محمد کی کے خلاف حاصل کی کے ساتھ رنز کی

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا