سسٹم کے ذریعے ہائی پروفائل افراد، تنظیموں اور ممالک کی ڈیجیٹل پروفائلنگ ممکن ہوگی۔ عالمی خطوں، موضوعات اور اہم واقعات کا ڈیٹا جمع کیا جائے گا۔ سکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پروفائلنگ سسٹم پنجاب انٹیلی جنس فیوژن اور تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر کا حصہ ہو گا۔ جدید سسٹم دہشت گردی، منظم جرائم اور ڈیجیٹل خطرات کی نشاندہی میں مدد دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ صوبے میں امن و امان کے قیام اور جرائم پیشہ عناصر کے تدارک کیلئے پنجاب حکومت نے اہم فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے ڈیجیٹل پروفائلنگ سسٹم قائم کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل پروفائلنگ سسٹم پر 33 کروڑ روپے سے زائد لاگت کا تخمینہ لگا لیا گیا ہے۔ 20 کروڑ 44 لاکھ روپے کی لاگت سے پہلا مرحلہ مکمل کیا جائے گا۔ دوسرے مرحلے کیلئے 13 کروڑ روپے مختص کر دیئے گئے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ڈیجیٹل پروفائلنگ منصوبے پر 33 کروڑ 44 لاکھ روپے کا خرچ آئے گا۔
 
سسٹم کے ذریعے ہائی پروفائل افراد، تنظیموں اور ممالک کی ڈیجیٹل پروفائلنگ ممکن ہوگی۔ عالمی خطوں، موضوعات اور اہم واقعات کا ڈیٹا جمع کیا جائے گا۔ سکیورٹی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پروفائلنگ سسٹم پنجاب انٹیلی جنس فیوژن اور تھریٹ اسیسمنٹ سینٹر کا حصہ ہو گا۔ جدید سسٹم دہشت گردی، منظم جرائم اور ڈیجیٹل خطرات کی نشاندہی میں مدد دے گا۔ منصوبے میں ویڈیو اینالٹکس، اوپن سورس انٹیلی جنس اور ڈیٹا آرکائیونگ شامل ہوگی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ڈیجیٹل پروفائلنگ پروفائلنگ سسٹم کیا جائے گا

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی