عصبی امراض سے سالانہ 1 کروڑ 10 لاکھ اموات، دنیا کی 40 فیصد آبادی متاثر
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جنیوا: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں عصبی امراض (Neurological Disorders) سے نمٹنے کے لیے کوئی جامع پالیسی موجود نہیں، حالانکہ یہ بیماریاں اب دنیا کی 40 فیصد آبادی کو متاثر کر رہی ہیں اور ہر سال 1 کروڑ 10 لاکھ سے زائد اموات کا باعث بنتی ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق ڈبلیو ایچ او کی جانب سے جاری ہونے والی عالمی رپورٹ برائے نیورولوجی کی صورتحال (Global Status Report on Neurology) میں بتایا گیا ہےکہ دنیا بھر میں 3 ارب سے زائد افراد کسی نہ کسی نوعیت کے عصبی مرض میں مبتلا ہیں جب کہ صرف ایک تہائی ممالک نے ان امراض کے لیے قومی سطح پر کوئی پالیسی ترتیب دی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اموات اور معذوری کی سب سے بڑی 10 وجوہات میں فالج (Stroke)، نوزائیدہ بچوں میں دماغی سوزش (Neonatal Encephalopathy)، مائیگرین، الزائمر اور دیگر ذہنی زوال کے امراض، ذیابطیس سے متعلق اعصابی نقصان (Diabetic Neuropathy)، گردن توڑ بخار (Meningitis)، مرگی (Epilepsy)، اور اعصابی نظام کے سرطان شامل ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے معاون ڈائریکٹر جنرل برائے صحت کے فروغ، بیماریوں کی روک تھام اور کنٹرول ڈاکٹر جیریمی فیرر نے کہا کہ دنیا میں ہر تین میں سے ایک شخص کسی نہ کسی دماغی یا عصبی بیماری میں مبتلا ہے، اس لیے ہمیں فوری طور پر ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جن سے انہیں بہتر علاج اور دیکھ بھال فراہم کی جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ ان میں سے کئی بیماریاں قابلِ علاج یا قابلِ تدارک ہیں، مگر بدقسمتی سے دیہی یا کم ترقی یافتہ علاقوں میں یہ سہولتیں عوام کی پہنچ سے باہر ہیں، جہاں مریض اکثر سماجی بدنامی، معاشی مشکلات اور علاج کی کمی جیسے مسائل کا شکار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کم آمدنی والے ممالک میں ماہرینِ اعصاب (Neurologists) کی تعداد امیر ممالک کے مقابلے میں 80 گنا کم ہے، جب کہ صرف 32 فیصد ممالک کے پاس عصبی امراض سے متعلق قومی پالیسیاں موجود ہیں اور صرف 18 فیصد ممالک نے اس مقصد کے لیے باقاعدہ بجٹ مختص کیا ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے دنیا بھر کی حکومتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ عصبی امراض کو قومی صحتی ترجیحات میں شامل کریں، یونیورسل ہیلتھ کوریج کے ذریعے علاج کی فراہمی کو عام کریں، اور عالمی مشترکہ ایکشن پلان برائے مرگی و دیگر عصبی امراض (2022–2031) پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں تاکہ دماغی صحت کے عالمی بحران پر قابو پایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈبلیو ایچ او
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔