data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور (وقائع نگارخصوصی)امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ ہنر مند افراد قوم کا اثاثہ ہیں،ان کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کروا کر صلاحیتوں میں نکھار پیدا کیا جا سکتا ہے۔آج دنیا ترقی کی دوڑ میں بہت آگے نکل چکی ہے۔ آن لائن سروسز کی فراہمی سے لوکل اور انٹرنیشل مارکیٹ میں ایک انقلاب برپا ہو چکا ہے۔ کسی بھی ملک، قوم اورمعاشرے کی ترقی میں مزدور وں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے، مگر سب سے زیادہ حق تلفی بھی انہی کی کی جاتی ہے۔جماعت اسلامی کروڑوں مزدوروں کی آواز بلند کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آبادی 25کروڑ ہے اور اس میں مزدوروں کی تعداد 7کروڑ 69لاکھ ہے جس میں 25فیصد خواتین ہیں جبکہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں اور مختلف جگہوں پر محنت مزدوری کررہے ہیں۔المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں مزدور مختلف فیکٹریوں اور آرگنائزیشنز میں کام کرتے ہیں جن کو زندگی گزارنے کیلئے مناسب تنخواہ اور دیگر مراعات دینے کا اعلانات تو بہت کئے جاتے ہیں مگر حقائق اس کے برعکس ہیں۔نجی شعبے میں کام کرنے والے لاکھوں محنت کشوں کو آج بھی صحت کی سہولتوں سمیت سوشل سیکورٹی تک دستیاب نہیں، مہنگائی کے دور میں بچوں کو پڑھانا اور دو وقت کی روٹی کھلانا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں سنگین سیاسی و معاشی بحران ہے جس کی وجہ سے کاروبار بند ہیں، کارخانے اور صنعتی یونٹ شدید دباؤکا شکار ہیں،کارخانوں اور فیکٹریوں کو تالے لگ رہے ہیں، ہزاروں مزدور بے روزگار ہو رہے ہیں جس کے اثرات ان سے وابستہ خاندانوں اور زیر کفالت لاکھوں افراد پر پڑ رہے ہیں، گزشتہ چند ماہ کے دوران لاکھوں سے زیادہ نوجوان حالات سے تنگ آکر ملک سے باہر بھاگ گئے ہیں، لوگ قانونی و غیر قانونی طریقوں سے ملک چھوڑ رہے ہیں۔ یہ طبقہ آج بھی سرمایہ داری نظام کے زیرتسلط بری طرح پس رہا ہے جس کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ موجودہ مہنگائی سے عام آدمی تو متاثر ہوا ہی ہے جبکہ مزدور طبقہ تو عملاً زندہ درگور ہو چکا ہے۔

وقائع نگار خصوصی سیف اللہ.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: رہے ہیں

پڑھیں:

سندھ پولیس کا نیا سربراہ کون؟ افسران میں دوڑ شروع ہو گئی

آئی جی کے عہدے کے لیے رفعت مختار، امیر شیخ، عبدالخالق شیخ، آزاد خان اور جاوید عالم اوڈھو امیدوار
پانچوں سینئر افسران میں گریڈ 22 کے جاوید عالم اوڈھو سب سے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں

سندھ پولیس کی کمان کس کے ہاتھ میں ہوگی، یہ سوال افسران کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے ۔ موجودہ آئی جی غلام نبی میمن تیس دسمبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں، جس کے بعد نئے آئی جی کے انتخاب کے لیے افسران میں بھاگ دوڑ شروع ہو گئی ہے ۔آئی جی کے عہدے کے لیے رفعت مختار، امیر شیخ، عبدالخالق شیخ، آزاد خان اور جاوید عالم اوڈھو امیدوار ہیں۔ ان پانچوں سینئر افسران میں گریڈ 22 کے جاوید عالم اوڈھو سب سے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔اگر جاوید عالم اوڈھو نئے آئی جی بن گئے ، تو کراچی پولیس چیف کی سیٹ خالی ہو جائے گی، جس کے لیے بھی دو سینئر افسران کی لائن میں موجودگی کی اطلاعات ہیں۔ کراچی پولیس چیف کے عہدے کے لیے شرجیل کھرل اور اقبال دار کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے ۔سندھ پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ نئے آئی جی اور کراچی پولیس چیف کے فیصلے چند ہفتوں میں متوقع ہیں اور اس سے پولیس کی قیادت میں تبدیلی کا عمل مکمل ہو جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر بنیادی طور پر لاکھوں کشمیریوں کی امنگوں کا مسئلہ ہے، ڈاکٹر فائی
  • رپورٹ: مصنوعی ذہانت اگلے چند سالوں میں لاکھوں افراد کو بے روزگار کر سکتی ہے
  • بحیرہ اسود میں یوکرین کے ڈرونز حملوں روسی ٹینکرز تباہ، ویڈیو وائرل
  • دلہے نے جہیز میں لاکھوں روپے لینے سے انکار کرکے باراتیوں کے دل جیت لیے
  • سندھ پولیس کا نیا سربراہ کون؟ افسران میں دوڑ شروع ہو گئی
  • وی پی این کے ذریعے پاک مخالف پوسٹیں
  • اسحاق ڈار سے صدر انٹرنیشنل فیڈریشن اکاؤنٹنٹس ژاں بوکو کی ملاقات
  • اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایف آئی اے نے جعلی اسٹمپ کے ذریعے بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام بنا دی
  • مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں ، جاوید قصوری
  • پاکستان ریلوے میں نئی ٹیکنالوجی متعارف کروا دی گئی