لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آگیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251016-08-6
لاہور(نمائندہ جسارت) بھارت کی طرف سے آنے والی ہواں اور درجہ حرارت میں کمی کے باعث لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں فضائی آلودگی خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے۔ادارہ تحفظ ماحولیات پنجاب (ای پی اے)اور اسموگ و موسمیاتی نگرانی کے جدید نظام کے تحت حاصل اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں ایئر کوالٹی انڈیکس 211 ریکارڈ کیا گیا ہے، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی غیر صحت مند زمرے میں شمار ہوتا ہے۔آئی کیو ائیر کے مطابق لاہور آج دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں پہلے نمبر پر ہے۔ای پی اے کے مطابق بھارت سے داخل ہونے والی آلودہ ہوا نے فضا میں معلق ذرات(پارٹیکیولیٹ میٹر)کی مقدار میں اضافہ کیا، جس سے لاہور کا فضائی معیار تیزی سے بگڑ گیا۔ اس وقت ہوا کی رفتار ایک سے تین کلو میٹر فی گھنٹہ کے درمیان ہے، جس کی وجہ سے آلودہ ذرات فضا میں معلق رہنے کے بجائے زمین کے قریب جمع ہو رہے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر فضائی معیار کی نگرانی کرنے والے نظام کے مطابق جمعرات کی صبح سات بجے تک بھارتی دارالحکومت دہلی کا اے کیو آئی 228، افغانستان کے دارالحکومت کابل کا 173 اور بنگلا دیش کے دارالحکومت ڈھاکا کا 163 ریکارڈ کیا گیا، جب کہ لاہور 211 کے ساتھ ان شہروں سے بھی زیادہ آلودہ فضا میں شامل ہوگیا۔آئی کیو ایئر کے مطابق دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں لاہور پہلے جبکہ بھارتی شہر کولکتہ دوسرے اور دہلی تیسرے نمبر پر ہے۔ماہرین نے شہریوں، خصوصا حساس گروپس جیسے بچوں، بوڑھے افراد، حاملہ خواتین اور سانس یا دل کے امراض میں مبتلا افراد کو ہدایت کی ہے کہ وہ کھلی فضا میں جانے سے گریز کریں، گھروں کی کھڑکیاں بند رکھیں، اور غیر ضروری طور پر سڑکوں یا کھلے مقامات پر قیام نہ کریں۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل کے سامنے ٹریفک حادثہ، طالبعلم اور گارڈ جاں بحق
پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل کے سامنے ٹریفک حادثے میں طالبعلم اور گارڈ جاں بحق ہوگئے۔
لاہور سے پولیس کے مطابق تیز رفتار کار کی ٹکر سے طالبعلم اور گارڈ جاں بحق جاں بحق ہوئے۔
ترجمان کے مطابق رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی نے 7 اکتوبر کو چیف ٹریفک آفیسر لاہور کو خط لکھا، چیف ٹریفک آفیسر لاہور کو یوٹرن بند کرنے کا کہا گیا تھا۔
ترجمان کے مطابق رجسٹرار کے خط میں گرین بیلٹ ختم کر کے ٹرن بنانے پر خطرات کی نشاندہی کی گئی تھی۔
ترجمان کے مطابق رجسٹرار نے سی ٹی او لاہور کو ممکنہ ٹریفک حادثات پر آگاہ کیا تھا۔