حیدرآباد،تیز رفتار بس نے بچے کو کچل دیا،پولیس مقابلے میں ملزم ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)تیز رفتار بس نے بچے کو کچل دیا،پولیس مقابلے میں ملزم ہلاک، 2ساتھی فرار،حسین آباد سے موٹرسائیکل چور گروہ کے کارندے کو گرفتار کرکے 6مسروقہ موٹرسائیکلیں برآمد کرلی گئیں۔ تفصیلات کیمطابق خواجہ غریب نواز پل پر بے قابو بس بچے پر چڑھ دوڑی حادثے میں 10 سالہ ایان موقع پر ہی جاںبحق ہوگیاایان ولد راشد علی پانچویں کلاس کا طالب علم اور پہنور گوٹھ کا رہائشی تھا،ایان سودا لینے باہر نکلا تھا کہ تیز رفتار بس نے کچل ڈالا،حادثے کے بعد بس ڈرائیور گاڑی کو سڑک پر چھوڑ کر فرار ہوگیالواحقین نے الزام عائد کیا ہے کہ ڈرائیور تیز رفتار بس کو غلط سائیڈ سے لیجانے کی کوشش کررہا تھا بس ڈرائیور کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے۔ادھرفورٹ پولیس سے مقابلے میں ایک ملزم ہلاک ہوگیا، پولیس کے مطابق فورٹ اہلکارمعمول کے گشت پر تھے کہ فورٹ کے علاقے ٹائر مارکیٹ اسٹریٹ خالی پلاٹ کے قریب تین مشتبہ افراد کو رکنے کا اشارہ کیا جس پر ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس اہلکاروں کی جوابی فائرنگ کے نتیجے میں ایک ملزم گولی لگنے سے زخمی حالت میں گرفتار ہوا، زخمی ملزم کو فوری طور پر ایل ایم سی اسپتال حیدرآباد منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔ہلاک ملزم کی شناخت میزان ولد نورالحق برمی بنگالی کے نام سے ہوئی ہے جبکہ اس کے دو ساتھی محمد علی قاضی اور نزاکت چوہان اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے موٹر سائیکل پر فرارہوگئے ہلاک وفرار ملزمان کئی وارداتوںمیں ملوث ہیں۔علاوہ ازیںحسین آباد پولیس نے موٹر سائیکل چور گروہ کے کارندے حارث پٹھان کو گرفتار کرلیا ، ملزم بچائو بند کے قریب مختلف چوری شدہ موٹر سائیکلوں کو دوسرے مقام پر منتقل کرنے کیلیے کھڑا تھا جہاں حسین آباد پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو 6عدد موٹر سائیکلوں اور ایک پستول سمیت گرفتار کرلیا۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تیز رفتار بس
پڑھیں:
کراچی: خاتون کو قتل کرکے شناخت چھپانے کی کوشش کرنے والا ملزم گرفتار
فائل فوٹوکراچی کے چائنہ پورٹ سے 25 نومبر کو ملنے والی خاتون شہناز کی لاش کے کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
پولیس نے قتل میں ملوث مرکزی ملزم احتشام کو گرفتار کر لیا۔ ڈی آئی جی ساوتھ اسد رضا کے مطابق ملزم کے قبضے سے مقتولہ کا موبائل فون بھی برآمد ہوا ہے۔
ابتدائی تفتیش میں ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے شہناز کو پیسوں کے تنازع پر قتل کیا۔ پولیس کے مطابق ملزم نے جرم چھپانے کے لیے انتہائی سفاکانہ اقدام کیا اور مقتولہ کا چہرہ پتھر سے مسخ کیا اور انگلیاں جلا دیں تاکہ شناخت اور فارنزک شواہد مٹائے جا سکیں۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت اس کے بیٹے عادل نے کی، جس نے اپنی والدہ کو پرس اور کپڑوں کی مدد سے پہچانا ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق مقتولہ شہناز مدینہ کالونی کی رہائشی تھی اور 22 نومبر سے لاپتہ تھی۔ اہلِ خانہ کی تلاش کے باوجود اسے ڈھونڈا نہیں جا سکا، تاہم چائنہ پورٹ کے قریب اس کی مسخ شدہ لاش ملنے کے بعد پولیس نے فوری طور پر تھانہ بوٹ بیسن میں مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کیں۔
ملزم احتشام کی گرفتاری کے بعد پولیس نے مزید تفتیش کی، جس میں اس کے بیان اور شواہد کے مطابق جرم کی تفصیلات سامنے آئیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نے مقتولہ کو پیسوں کے لین دین پر تنازع کے بعد قتل کیا اور بعد میں شواہد مٹانے کی کوشش کی۔