سعودی آرامکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور صدر امین الناصر نے خبردار کیا ہے کہ اگر تیل کی کمپنیاں تلاش اور پیداوار میں سرمایہ کاری نہیں کریں گی، تو عالمی سطح پر تیل کی فراہمی کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں امین الناصر نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران تیل کی تلاش کا عمل قریباً رُک چکا ہے، جس کے اثرات اب عالمی توانائی کے شعبے پر نمایاں طور پر نظر آئیں گے۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد میں سعودی کمپنی آرامکو کا پیٹرول پمپ کھل گیا

انہوں نے کہا کہ امریکا میں شیل آئل کی وہ تاریخی پیداوار، جس نے پچھلے 15 سالوں تک عالمی منڈیوں کو تیل سے بھر دیا تھا، دوبارہ ممکن نہیں لگتی۔ ان کے مطابق “گزشتہ عرصے میں 80 سے 90 فیصد تک اضافہ شیل آئل سے آیا، لیکن آئندہ 15 سالوں میں اس پیداوار کے مستحکم رہنے یا بتدریج کمی کا امکان ہے، تو سوال یہ ہے کہ طلب پوری کرنے کے لیے اضافی تیل کہاں سے آئے گا؟”

امین الناصر نے واضح کیا کہ نئے منصوبوں کو مکمل ہونے میں عموماً 5 سے 7 سال لگتے ہیں، اس لیے آئندہ دہائی میں تیل کی عالمی فراہمی کا دار و مدار موجودہ فیصلوں اور سرمایہ کاری پر ہوگا۔

مزید پڑھیں: اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت میں کمی کا اعلان کردیا

انہوں نے بتایا کہ آرامکو اس وقت سالانہ 1 سے 2 بلین ڈالر تیل کی تلاش پر خرچ کرتی ہے، جسے کمپنی اپنی طویل مدتی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ سمجھتی ہے۔ ان کے مطابق کمپنی کے لیے نئی ذخائر کی تلاش اور اضافہ مستقبل کی توانائی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آرامکو امین الناصر سعودی آرامکو ریفائنری.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آرامکو امین الناصر سعودی آرامکو ریفائنری امین الناصر تیل کی کے لیے

پڑھیں:

امارات میں پاکستانیوں کے لیے روزانہ 500 ویزے پراسیس کیے جا رہے ہیں، سفیر کی تصدیق

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: اماراتی سفیر نے تصدیق کی ہے کہ پاکستانیوں کے لیے روزانہ پانچ سو ویزے پراسس کیے جا رہے ہیں۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور متحدہ عرب امارات کے نئے سفیر کے درمیان ہونے والی ملاقات میں دونوں ممالک نے معاشی شراکت داری کے نئے دور کی جانب بڑھنے کا واضح عندیہ دیا ہے۔

اہم ملاقات میں نہ صرف تجارتی و مالیاتی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے گفتگو کی گئی بلکہ سفیر کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ پاکستانی شہریوں کے لیے یو اے ای ویزا پراسیسنگ اب پہلے سے کہیں تیز ہوچکی ہے اور روزانہ تقریباً 500 ویزے مکمل کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ای ویزا، آن لائن پراسسنگ اور پاسپورٹ اسٹیمپنگ کے خاتمے جیسے اقدامات پر بھی پیش رفت جاری ہے، جو مستقبل میں پاکستانیوں کے سفر کو مزید سہل بنانے کا سبب بنے گی۔

وزارتِ خزانہ کے مطابق اس اہم ملاقات کا مقصد دونوں ممالک کی اسٹریٹجک معاشی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانا تھا۔ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان گزشتہ برسوں میں تجارت، سرمایہ کاری اور مالیاتی تعاون میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اس نے دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے لیے بااعتماد شراکت دار کے طور پر آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

وزیر خزانہ نے گفتگو کے دوران کہا کہ پاکستان اس وقت تجارتی توسیع اور طویل المدتی سرمایہ کاری کی طرف بڑھ رہا ہے اور ایسے وقت میں یو اے ای کی جانب سے پورٹس، ڈیجیٹل بینکنگ اور لاجسٹکس سیکٹر میں سرمایہ کاری نہایت حوصلہ افزا ہے۔

یو اے ای کے سفیر نے پاکستانی پروفیشنلز کی خدمات کو سراہتے ہوئے اعتراف کیا کہ مختلف شعبوں میں پاکستانی افرادی قوت نے ہمیشہ اعلیٰ کارکردگی دکھائی ہے اور ملک کی معاشی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ورکرز کی مہارت، محنت اور پیشہ ورانہ وقار نے انہیں یو اے ای کی تعمیر و ترقی کا مضبوط حصہ بنایا ہے۔

ملاقات میں زراعت، کان کنی، مالیاتی خدمات اور ورچوئل ایسٹس جیسے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی تجاویز بھی زیر بحث آئیں۔ دونوں ممالک نے ان شعبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری اور پارٹنرشپ کی اہمیت پر زور دیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ مستقبل میں ان سیکٹرز میں عملی پیش رفت کے لیے طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کے لیے سفری سہولیات کو بہتر بنانا نہایت ضروری ہے، کیوں کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ میں آسان سفری نظام بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔

ملاقات کے دوران سفیر کی جانب سے ویزا پراسیسنگ کے حوالے سے دی گئی تفصیلات بھی نہایت اہم تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا سسٹم کو جدید اور تیز تر بنانے کے لیے یو اے ای مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔ ای ویزا اور آن لائن پراسسنگ کے نظام سے پاکستانیوں کو درپیش کئی مشکلات کم ہو رہی ہیں جب کہ پاسپورٹ اسٹیمپنگ کے خاتمے سے مستقبل میں سفری عمل مزید فاسٹ ٹریک ہوجائے گا۔

فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تجارت، سرمایہ کاری، فنانس، ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کے شعبے وہ میدان ہیں جن میں باہمی تعاون سے نہ صرف اقتصادی ترقی کو رفتار دی جا سکتی ہے بلکہ خطے میں معاشی استحکام کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • سعودی سرمایہ کاری اور آئی ایم ایف سے امید: ڈالر کے مقابلے میں روپیہ مستحکم
  • جرمن کمپنی کی حب میں 5 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری، مفاہمتی یاداشت پر دستخط
  • پاکستان کی سرمایہ کاری مارکیٹس کو جدید اور شفاف بنانے کے لیے سی ایم ڈی سی کا پہلا اجلاس
  • نفیس سرافت پر 1,613 کروڑ ٹکے کے فراڈ اور منی لانڈرنگ کا کیس
  • پاکستان پیداواری ملک نہیں صارف منڈی بن رہا ہے!
  • ایس آئی ایف سی کوآرڈینیٹر کا کاروبار دوست معاشی روڈ میپ پیش
  • چین کا بنگلہ دیش میں پٹ سن پر منحصر صنعتوں میں بڑی سرمایہ کاری کا عندیہ
  • پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان دو طرفہ سرمایہ کاری معاہدہ
  • امارات میں پاکستانیوں کے لیے روزانہ 500 ویزے پراسیس کیے جا رہے ہیں، سفیر کی تصدیق
  • ایس آئی ایف سی کوآرڈی نیٹر کا کاروبار دوست معاشی روڈ میپ جاری