data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں تلاش کرنے اور انہیں نکالنے کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ حماس کے مطابق، بہت سی لاشیں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تباہ ہونے والی زیرِ زمین سرنگوں اور ملبے تلے دفن ہیں، جن تک فوری رسائی ممکن نہیں۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، غزہ میں جنگ بندی اور امن معاہدے کے تحت حماس اب تک 10 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں بین الاقوامی ریڈ کراس کے حوالے کر چکی ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نے مطالبہ کیا ہے کہ حماس کو تمام یرغمالیوں کی باقیات واپس کرنا ہوں گی۔

حماس کا کہنا ہے کہ تنظیم امن معاہدے پر عملدرآمد کے لیے سنجیدہ ہے، اور جن یرغمالیوں کی لاشیں دستیاب ہوئیں، انہیں فوری طور پر حوالے کر دیا گیا۔ تنظیم کے مطابق دیگر لاشوں کی تلاش کا کام جاری ہے، تاہم اس عمل میں کئی رکاوٹیں درپیش ہیں۔ ملبہ ہٹانے کے لیے ضروری مشینری اور سازوسامان اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث دستیاب نہیں، جس کی وجہ سے تلاش کا عمل مزید مشکل ہو گیا ہے۔

حماس نے مزید کہا کہ وہ باقی یرغمالیوں کی لاشیں بھی واپس کرنے کے لیے پرعزم ہے، لیکن موجودہ حالات، تباہی کی شدت، اور محدود وسائل کے پیش نظر یہ عمل وقت طلب ہے۔ غزہ کی موجودہ صورتِ حال میں بین الاقوامی تعاون اور انسانی ہمدردی کی فوری ضرورت ہے تاکہ اس پیچیدہ عمل کو ممکن بنایا جا سکے۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یرغمالیوں کی لاشیں

پڑھیں:

یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری

دبئی: یو اے ای ویزا آن ارائیول سے متعلق متحدہ عرب امارات نے نئی شرائط، فیس اور درخواست کے طریقہ کار کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔ نئی ہدایات کے تحت مخصوص ممالک کے اہل شہری امارات پہنچنے پر 14 یا 60 روزہ ویزا حاصل کر سکیں گے، تاہم اس کے لیے مقررہ شرائط پر پورا اترنا لازمی ہوگا۔

دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق بھارت، انڈونیشیا، ویتنام، تھائی لینڈ، فلپائن، کینیا اور جنوبی افریقہ کے شہری، اور ان کے ہمراہ سفر کرنے والے اہل خانہ، اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

حکام کے مطابق درخواست گزار کے پاس کم از کم چھ ماہ کے لیے کارآمد پاسپورٹ، سفید پس منظر والی حالیہ رنگین تصویر اور امریکا، برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جاپان، جنوبی کوریا یا سنگاپور کی جانب سے جاری کردہ قابل قبول رہائشی پرمٹ یا ویزا ہونا ضروری ہے۔

اعلامیے کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کو صرف ایک مرتبہ مزید 14 دن کے لیے توسیع دی جا سکتی ہے، جبکہ 60 روزہ ویزا میں توسیع کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔

جی ڈی آر ایف اے نے بتایا کہ ویزا کے لیے درخواست اس کی سرکاری ویب سائٹ یا اسمارٹ ایپ کے ذریعے جمع کرائی جا سکتی ہے۔ درخواست کی منظوری کے بعد ویزا رجسٹرڈ ای میل پر ارسال کیا جائے گا، جبکہ عام طور پر درخواستوں پر 48 گھنٹوں کے اندر کارروائی مکمل کر لی جاتی ہے۔

فیس کے حوالے سے جاری تفصیلات کے مطابق 14 روزہ ویزا آن ارائیول کی فیس 172.50 درہم جبکہ 60 روزہ ویزا کی فیس 422.50 درہم مقرر کی گئی ہے۔

جی ڈی آر ایف اے کا کہنا ہے کہ اس سہولت کا مقصد بین الاقوامی مسافروں کے لیے سفری عمل کو مزید آسان بنانا، سیاحت کو فروغ دینا اور زیادہ سے زیادہ سیاحوں کو متحدہ عرب امارات کی جانب راغب کرنا ہے۔

ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اس پروگرام کے تحت 73 ہزار 551 ویزے جاری کیے جا چکے ہیں، جو اس سہولت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اہم وضاحت: جاری کردہ شرائط میں پاکستانی پاسپورٹ ہولڈرز شامل نہیں ہیں۔ یہ سہولت صرف ان مخصوص ممالک کے شہریوں کے لیے ہے جن کا جی ڈی آر ایف اے نے اعلان کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم