اسرائیلی پابندیاں تباہ سرنگوں میں دفن یرغمالیوں کی لاشیں نکالنے میں رکاوٹ ہیں: حماس
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کا کہنا ہے کہ غزہ میں جاری انسانی بحران اور بنیادی سہولیات کی کمی کے باعث اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں تلاش کرنے اور انہیں نکالنے کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ حماس کے مطابق، بہت سی لاشیں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تباہ ہونے والی زیرِ زمین سرنگوں اور ملبے تلے دفن ہیں، جن تک فوری رسائی ممکن نہیں۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، غزہ میں جنگ بندی اور امن معاہدے کے تحت حماس اب تک 10 اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں بین الاقوامی ریڈ کراس کے حوالے کر چکی ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نے مطالبہ کیا ہے کہ حماس کو تمام یرغمالیوں کی باقیات واپس کرنا ہوں گی۔
حماس کا کہنا ہے کہ تنظیم امن معاہدے پر عملدرآمد کے لیے سنجیدہ ہے، اور جن یرغمالیوں کی لاشیں دستیاب ہوئیں، انہیں فوری طور پر حوالے کر دیا گیا۔ تنظیم کے مطابق دیگر لاشوں کی تلاش کا کام جاری ہے، تاہم اس عمل میں کئی رکاوٹیں درپیش ہیں۔ ملبہ ہٹانے کے لیے ضروری مشینری اور سازوسامان اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث دستیاب نہیں، جس کی وجہ سے تلاش کا عمل مزید مشکل ہو گیا ہے۔
حماس نے مزید کہا کہ وہ باقی یرغمالیوں کی لاشیں بھی واپس کرنے کے لیے پرعزم ہے، لیکن موجودہ حالات، تباہی کی شدت، اور محدود وسائل کے پیش نظر یہ عمل وقت طلب ہے۔ غزہ کی موجودہ صورتِ حال میں بین الاقوامی تعاون اور انسانی ہمدردی کی فوری ضرورت ہے تاکہ اس پیچیدہ عمل کو ممکن بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یرغمالیوں کی لاشیں
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔