پاکستان اور یو اے ای کے درمیان فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کا معاہدہ طے پاگیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
پاکستان اور یو اے ای کے درمیان فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کا معاہدہ طے پاگیا WhatsAppFacebookTwitter 0 17 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)پاکستان اور متحدہ عرب امارات جی ٹو جی فریم ورک کے تحت فرسٹ ویمن بینک کی نجکاری کا معاہدہ طے پاگیا ہے۔
اسلام آباد میں فرسٹ وویمن بینک کی نجکاری کے معاہدے پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکت کی، یہ معاہدہ جی ٹو جی فریم ورک کے تحت طے پایا، جس کا مقصد پاکستان میں مالیاتی شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ فرسٹ وویمن بینک کی نجکاری سے ملکی معیشت کو استحکام ملے گا اور بینکنگ سیکٹر میں شفافیت اور مسابقت بڑھے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ پاکستان کے معاشی تعلقات پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشترکہ منصوبے دونوں ملکوں کے مفاد میں ہیں اور ایسے اقدامات سے باہمی تعاون مزید فروغ پائے گا۔وزیراعظم نے شیخ زید بن حمدان کو پاکستان میں خوش آمدید کہا اور یو اے ای کے سابق امیر شیخ زید النہ یان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شیخ زید النیہان پاکستان کے سچے اور مخلص دوست تھے جو پاکستان کے لیے سوچتے تھے۔
شہباز شریف نے کہا کہ شیخ محمد زید بن حمدان پاکستان کے ساتھ مشترکہ منصوبے تجارت کو فروغ دینا چاہتے ہیں، جی ٹو جی فریم ورک معاہدہ دونوں برادر ملکوں کے درمیان ترقی و خوشحالی کے سفر کا آغاز ہے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ دنوں میں ایسے کئی منصوبوں کا آغاز ہوگا، ہم نے حکومتی اداروں میں ادارہ جاتی اصلاحات لانی ہیں، ہماری ترجیع نجی شعبے کی حوصلہ افزائی ہے، حکومت کا کام کاروبار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروفاقی وزیر داخلہ سے علامہ شاہ اویس نورانی کی ملاقات، مدارس کو بند نہ کرنے پر اتفاق وفاقی وزیر داخلہ سے علامہ شاہ اویس نورانی کی ملاقات، مدارس کو بند نہ کرنے پر اتفاق سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اگست کے بجلی کے بل معاف کر دیئے گئے کابل میں کوئی آئین موجود نہیں، وہاں ایک گروہ طاقت کے بل پر اقتدار میں ہے، پاکستان عمران خان سے ملاقات کیلئے وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی کا چیف جسٹس پاکستان کو خط بانی پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو کابینہ کی تشکیل کا اختیار دیدیا مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافہ، مزید 24اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئیںCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بینک کی نجکاری
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔