Daily Mumtaz:
2026-06-02@22:44:39 GMT
ذاتی وسائل سے 350 افغان گھرانوں کی دیکھ بھال کرتا ہوں، شاہد آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
پاکستان ہمیشہ اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑا رہا، افغانوں کی مشکلات کو اپنی مشکل سمجھا ۔ اپنی سرحدیں اپنے بھائیوں کے لیے کھول دیں ۔ چالیس لاکھ مہاجرین کو اپنی سر زمین پر بسایا ۔ میں ذاتی طور پر اپنے وسائل کے مطابق 350 افغان گھرانوں کی دیکھ بھال کرتا ہوں لیکن انتہای افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ دنوں افغانستان نے ان تمام احسانات کو فراموش کرتے ہوئے سرحدوں پر کھلی جارحیت کی جسکا ہماری افواج نے بھرپور جواب دیا ۔ افغانستان کو سوچنا چائیے کہ پاکستان اُسکا برادر اسلامی مُلک ہے لہٰذا کسی ایسے مُلک کے ہاتھوں استعمال نہ ہو جو پہلے ہی پاکستان کے اندر دہشتگردوں کو تعاون فراہم کر رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔