دیوالی پر ماں کی ڈانٹ پر لڑکی کا ردعمل، موبائل ٹاور پر چڑھ گئی — ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
اترپردیش، بھارت — ریاست اترپردیش کے شہرمرزاپور میں ایک حیران کن واقعہ پیش آیا، جہاںدیوالی کی تیاریوں کے دوران ماں کی ڈانٹ پر ناراض ہو کر ایک نوجوان لڑکی موبائل ٹاور پر چڑھ گئی۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور عوام کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، دیوالی کے موقع پر گھر کی صفائی نہ کرنے پر لڑکی کو اس کی ماں نے ڈانٹا، جس پر وہ شدید ناراض ہو گئی۔ غصے میں آ کر وہ قریبی موبائل ٹاور پر چڑھ گئی، جس نے مقامی آبادی کو حیران اور پریشان کر دیا۔
عینی شاہدین کے مطابق، لڑکی کو ٹاور پر چڑھتے دیکھ کر محلے والوں نے فوراً اس کے اہل خانہ اور پولیس کو اطلاع دی۔ حکام موقع پر پہنچے اور مسلسل بات چیت اور سمجھانے کے بعد لڑکی کو بحفاظت نیچے اتارنے میں کامیاب ہو گئے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ لڑکی مایوس تھی کیونکہ اسے لگا کہ گھر کی صفائی جیسا سارا بوجھ صرف اسی پر ڈال دیا گیا، جبکہ اس کے بھائی اور خاندان کے دیگر افراد کو کام میں شامل نہیں کیا گیا۔ اسی احساسِ ناانصافی اور دلبرداشتگی نے اسے یہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔
یہ واقعہ نہ صرف خاندانی ذمہ داریوں کی تقسیم پر سوال اٹھاتا ہے، بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ نوجوانوں کے جذبات کو سمجھنا اور ان سے نرمی سے بات کرنا کس قدر اہم ہے، خاص طور پر ایسے تہواروں کے مواقع پر جب جذبات پہلے ہی عروج پر ہوتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹاور پر
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔