جمائمہ کی والدہ انیبل گولڈ سمتھ انتقال کر گئیں
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251019-01-8
لندن(جسارت نیوز) سابق وزیر اعظم عمران خان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ
کی والدہ اور برطانوی سماجی شخصیت لیڈی انیبل گولڈ سمتھ 91سال کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔لیڈی انیبل 11جون 1934ء کو لندن میں پیدا ہوئیں۔ وہ برطانوی اشرافیہ کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، ان کی پہلی شادی مارک برلی سے ہوئی، جنہوں نے لندن میں مشہور نائٹ کلب انیبلز (Annabels)قائم کیا، جس کا نام انہوں نے اپنی اہلیہ کے نام پر رکھا۔ بعد ازاں انہوں نے معروف بزنس مین سر جیمز گولڈ سمتھ سے شادی کی۔ لیڈی انیبل کے تین بچے ہیں، جمائمہ، زیک اور بین گولڈ سمتھ، ان کی بیٹی جمائمہ گولڈ سمتھ نے 1995ء میں عمران خان سے شادی کی تھی، یوں لیڈی انیبل کچھ عرصہ کے لیے عمران خان کی ساس رہیں۔ لیڈی انیبل لندن کی سماجی اور ثقافتی تقریبات میں نمایاں مقام رکھتی تھیں۔ وہ کئی دہائیوں تک برطانوی اعلیٰ طبقے کی نمایاں چہروں میں شمار ہوتی رہیں اور ان کا نائٹ کلب انیبلز عالمی شہرت رکھتا تھا۔ انہوں نے اپنی زندگی پر ایک کتاب Annabel: An Unconventional Life بھی تحریر کی جس میں انہوں نے اپنی غیر معمولی زندگی کے تجربات اور برطانوی سماجی دنیا کے رنگ بیان کیے۔ان کے خاندان نے ان کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ برطانوی میڈیا نے انہیں “ایک عہد کی علامت” قرار دیتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا ہے۔پاکستان میں بھی ان کے انتقال کی خبر کو توجہ ملی ہے کیونکہ ان کا تعلق براہ راست عمران خان کی سابق اہلیہ جمائمہ گولڈ سمتھ کے ذریعے پاکستان سے جڑا رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: لیڈی انیبل گولڈ سمتھ انہوں نے
پڑھیں:
پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
کابینہ کمیٹی برائے متعدی امراض، ڈینگی و ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا اجلاس لاہور میں ہوا، پنجاب کے وزرائے صحت سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر صدارت کی۔
اس موقع پر پنجاب کے وزرائے صحت نے کہا کہ ڈینگی کے افزائش والے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، صوبے بھر میں ڈینگی کی تازہ صورتحال پر قابو پانے کیلیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے متعلقہ افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ جون جولائی میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔
خواجہ عمران نذیر نے کہا ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کسی ایک محکمہ کی ذمہ داری نہیں، اقدامات کی ذمہ داری تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہے۔
خواجہ عمران نے سی ای او ہیلتھ کو ضلعی انتظامیہ کیساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
انھوں نے کہا کہ ایچ آر منیجمنٹ، والنٹیر ماڈل کو اپناتے ہوئے ڈینگی کا خاتمہ ممکن ہے، یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ کو انسداد ڈینگی کی کارروائیوں میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا ڈینگی کی بوگس سرویلنس ناقابل برداشت ہے، عوام اپنےگھروں، دکانوں اور دیگر مقامات پر صفائی کویقینی بنائیں