ٹرمپ کی شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ ان سے ملاقات متوقع
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251019-01-14
واشنگٹن (مانیٹر نگ ڈ یسک )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایشیائی
ممالک کے دورے کے دوران ممکنہ طور پر شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ اْن سے بھی ایک اہم ملاقات کریں گے۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس دورے کی تیاری کو حتمی شکل دے رہی ہے تاہم اب تک ٹائم فریم واضح نہیں کیا گیا۔اگر اس ملاقات کو عملی شکل دی جاتی ہے تو یہ 2019 کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلا براہِ راست رابطہ ہوگا۔جس کے دوران صدر ٹرمپ نے جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے درمیان برسوں سے جاری تنازع اور تلخیوں کے خاتمے کے لیے غیرمعمولی اقدامات اْٹھائے تھے۔سی این این کا دعویٰ ہے کہ چند ماہ قبل صدر ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کو بھیجے گئے غیر رسمی پیغام کو قبول نہیں کیا گیا تھا۔دوسری ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ابھی تک صدر ٹرمپ کا کم جونگ اْن سے کوئی باضابطہ رابطہ نہیں ہوا ہے اور نہ سفارتی یا لاجسٹک انتظامات کیے گئے ہیںیاد رہے کہ اگست 2025 میں جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ امریکا اور پہنچے اور صدر ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔جس کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ میں شمالی کوریا کے حکمراں کم جونگ اْن سے دوبارہ ملاقات میں دلچسپی رکھتا ہوں، اگر اس سے امن قائم ہو۔صدر ٹرمپ کے پہلے دور حکومت کے درمیان شمالی کوریا کے ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری پر ڈیڈ لاک ہوگیا تھا اور پھر ٹرمپ الیکشن بھی ہار گئے تھے۔نئی امریکی حکومت نے شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان تنازعات کو حل کرانے میں وہ دلچسپی نہیں دکھائی جو ٹرمپ چھوڑ کر گئے تھے۔یہ صدر ٹرمپ ہی تھے جن کے بدولت 2019 میں شمالی اور جنوبی کوریا جیسے دو سخت حریف ممالک کے سربراہان کی پہلی ملاقات ممکن ہوسکی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شمالی کوریا کے جنوبی کوریا کے درمیان
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔