وفاق کو ترقیاتی منصوبوں پرسندھ حکومت کے تحفظات سے آگاہ کردیا،بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
کراچی کیلئے کام کیا جائے تو خوش ہوں گے، ترقیاتی کام اٹھارویں ترمیم کے مطابق ہوں، شہداء کی یادگار پر حاضری
ہمسائے ملک سے ہمارے تعلقات بہتر نہیں ہیں، کچھ معاملات کو شفاف طریقے سے حل نہیں کیا جاتا ،میڈیا سے گفتگو
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں پر سندھ حکومت کے تحفظات سے وفاق کو آگاہ کیا ہے، ہم خوش ہوں گے جب کراچی کے لیے کام کیا جائے، کراچی کے ترقیاتی منصوبے پر وفاق سے بات ہوئی ہے۔جو بھی ترقیاتی کام ہوں وہ اٹھارویں ترمیم کے مطابق ہوں۔یہ بدقسمتی ہے کہ کچھ معاملات کو شفاف طریقے سے حل نہیں کیا جاتا ہے۔ ہمسائے ملک سے ہمارے تعلقات بہتر نہیں ہیں۔وہ سانحہ کارساز کی 18 ویں برسی کے موقع پر شاہراہ فیصل پر شہداء کی یادگار پر حاضری دینے کے بعد میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔بلاول بھٹو زرداری نے سانحہ کارساز کی 18 ویں برسی کے موقع پر شاہراہ فیصل پر شہداء کی یادگار پر حاضری دی، پھول رکھے اور شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ سندھ کے وزیراعلی سید مراد علی شاہ، پی پی پی سندھ کے صدر نثار کھوڑو، سینیٹر وقار مہدی، شرجیل میمن، سعید غنی، ناصر شاہ، مرتضی وہاب، روف ناگوری اور دیگر رہنماء موجود تھے۔ان کا کہنا تھا کہ سانحہ کارساز دہشت گردی کا بہت بڑا واقعہ تھا، بے نظیر بھٹو کا قتل ملک اور وفاق کے خلاف سازش تھی، پیپلز پارٹی آج بھی بی بی کے مشن کو آگے لیکر چل رہی ہے، ہم اپنے قائدین کے وژن کے مطابق پاکستان کے عوام کی خدمت کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ 18 اکتوبر 2007 کو بے نظیر بھٹو وطن واپس آئیں، شہید بی بی غریب عوام کی آواز تھیں، کارساز کے مقام پر بے نظیر بھٹو کے قافلے پر خودکش حملہ ہوا، کارکنان شہید ہوئے، بے نظیر بھٹو دہشت گردوں اور انتہا پسندوں سے ڈری نہیں، بے نظیر بھٹو نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ان کا کہنا تھا کہ 27 دسمبر 2007کو بے نظیر بھٹو شہید ہوگئیں، بے نظیر بھٹو نے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور قبول شہادت کی، پیپلز پارٹی آج بھی شہید بے نظیر بھٹو کے فلسفہ مشن اور جدوجہد کو لے کر آگے چل رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمسائے ملک سے ہمارے تعلقات بہتر نہیں ہیں اور ایک سلسلہ چل رہا ہے، پیپلز پارٹی اس صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ملک میں کئی بڑے واقعات ہوئے ہیں، جو قومی سانحات ہیں۔ 18 اکتوبر کو کارساز کا واقعہ ملک کی تاریخ میں سب سے بڑا دہشت گردی کا واقعہ تھا ۔محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت پیپلز پارٹی، ملک اور وفاق کے خلاف ایک سازش تھی، یہ بدقسمتی ہے کہ کچھ معاملات کو شفاف طریقے سے حل نہیں کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں پر سندھ حکومت کے تحفظات سے وفاق کو آگاہ کیا ہے، ہم خوش ہوں گے جب کراچی کے لیے کام کیا جائے، کراچی کے ترقیاتی منصوبے پر وفاق سے بات ہوئی ہے۔جو بھی ترقیاتی کام ہوں وہ اٹھارویں ترمیم کے مطابق ہوں۔انہوں نے کہا کہ مشرقی وسطیٰ میں ہونے والی پیش رفت بہت بڑی کامیابی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں، غزہ کے معاملے پر امید تو ہے مگر خدشات بھی موجود ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو پیپلز پارٹی کراچی کے کے مطابق
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔