ادھر حماس نے معاہدے کے ضامن ممالک سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو دانستہ طور پر جنگ بندی معاہدے کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔ حماس کا کہنا ہے کہ رفح کراسنگ کا بند رکھنا بھی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ میں ایک بار پھر جنگ بندی معاہدہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔ حماس نے دو قیدی بنائے گئے افراد کی لاشیں اسرائیلی حکام کے حوالے کر دیں۔ جس کے جواب میں اسرائیل نے پندرہ فلسطینی شہداء کی میتیں اہلِ غزہ کو واپس کیں، جن میں سے زیادہ تر پر بہیمانہ تشدد کے نشانات پائے گئے۔ تاہم انسانی بنیادوں پر ہونے والے اس تبادلے کے باوجود اسرائیل نے کارروائیوں کا سلسلہ نہ روکا۔ صہیونی افواج کے کار پر حملے میں ایک ہی فلسطینی خاندان کے گیارہ افراد شہید ہوگئے، جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔

ادھر حماس نے معاہدے کے ضامن ممالک سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو دانستہ طور پر جنگ بندی معاہدے کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔ حماس کا کہنا ہے کہ رفح کراسنگ کا بند رکھنا بھی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ثالث ممالک فوری طور پر اسرائیل پر دباؤ ڈالیں، تاکہ رفح کراسنگ کھولی جائے اور جنگ بندی کی شرائط پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ صورتحال ایک بار پھر شدید انسانی بحران کی طرف بڑھ رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم