لاہور سے شیخوپورہ کیلئے 2 ڈبل ڈیکر بسوں کا آغاز ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک: حکومت پنجاب نے سیاحت کے فروغ کے لیے لاہور سے شیخوپورہ کے لیے دو ڈبل ڈیکر بسوں کی سروس کا آغاز کر دیا۔
پنجاب ٹورازم اینڈ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے تحت بس سروس ہفتہ اور اتوار کو لاہور سے شیخوپورہ کے تاریخی مقامات تک چلے گی، بس کا فی کس کرایہ 1200 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
پہلے سفر میں پیر وارث شاہ کے مزار اور ہرن مینار کی سیر شامل تھی، اس دوران سیاحوں نے ہرن مینار پر بوٹنگ اور سائیکلنگ کی، شیخوپورہ میں سیاحوں کے لیے ہیر خوانی کی تقریب بھی رکھی گئی۔
دکی ؛ کوئلے کی کان میں مٹی کا تودہ گرنے سے دو کان کن جاں بحق
شہریوں نے حکومت کے اقدام کو شیخوپورہ میں سیاحت کے فروغ کیلئے تاریخی پیشرفت قرار دیا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ دو روزہ سیاحتی ٹور نے شیخوپورہ کے تاریخی ورثے کو نئی شناخت دی، ڈبل ڈیکر بس سروس سے لاہور اور دیگر اضلاع کے شہریوں میں دلچسپی بڑھ گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر شاہد عمران مارتھ کا کہنا ہے کہ شیخوپورہ کو ٹورازم کا حب بنایا جا رہا ہے جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری ٹورازم صدف ظفر نے کہا کہ مقامی معیشت کو فروغ اور تاریخی ورثے کی ترویج ہمارا مقصد ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ سے قمر زمان کائرہ کی ملاقات،سیاسی صورتحال اور پارٹی امور پر گفتگو
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔