بلوچستان میں دہشتگردی کرنے والا فتنہ الہند کا انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
بلوچستان میں دہشتگردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث فتنہ الہند کا انتہائی مطلوب کمانڈر جمیل عرف ٹیٹک ہلاک ہوگیا۔
پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) نیوز کے مطابق سیکیورٹی ذرائع نے جمیل عرف ٹیٹک کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
فتنہ الہندوستان کا انتہائی مطلوب دہشتگرد ہلاک
فتنہ الہندوستان کے سرغنہ جمیل عرف ٹیٹک کے مارے جانے کی مصدقہ اطلاعات ہیں، ذرائع
دہشتگرد جمیل عرف ٹیٹک ضلع پنجگور کا رہائشی تھا،
ذرائع
دہشت گرد جمیل عرف ٹیٹک پنجگور اور بولیدہ سمیت متعدد علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں… pic.
— PTV News (@PTVNewsOfficial) October 19, 2025
ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والا دہشتگرد بلوچستان میں دہشتگردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جمیل کا تعلق ضلع پنجگور سے تھا اور وہ پنجگور، بلیدہ سمیت مختلف علاقوں میں دہشتگردانہ سرگرمیوں میں سرگرم عمل تھا۔
مزید بتایا گیا کہ فتنۃ الہند سے وابستہ یہ دہشتگرد 2022 میں پنجگور ہیڈکوارٹر پر حملے سمیت کئی سنگین کارروائیوں میں بھی شریک رہا۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے صوبے میں بغاوت کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیکیورٹی کی بگڑتی صورتحال کے پیچھے بھارت کی پشت پناہی یافتہ علیحدگی پسند تحریکیں کارفرما ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ بلوچستان میں کوئی بغاوت نہیں بلکہ چند نام نہاد علیحدگی پسند گروہ سرگرم ہیں جن کا مقصد پاکستان کو نقصان پہنچانا اور اسے تقسیم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کم عمر افغان نوجوانوں کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی، گرفتار خود کش بمبار کے ہوشربا انکشافات
سرفراز بگٹی کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ بلوچستان میں بدامنی پھیلانے اور امن و امان کو متاثر کرنے کی اصل ذمہ دار ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان دہشتگردی سیکیورٹی ذرائع فتنہ الہندوستان مطلوب کمانڈر ہلاک وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان دہشتگردی سیکیورٹی ذرائع فتنہ الہندوستان مطلوب کمانڈر ہلاک وی نیوز کارروائیوں میں بلوچستان میں میں دہشتگردی
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک