پیپلز پارٹی کے سی ای سی اجلاس کی اندرونی کہانی
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
اسلام ٹائمز: ذرائع کے مطابق آصف زرداری نے کہا کہ حکومت کو مطالبات پورے کرنے کیلئے ایک ماہ مہلت دی جانی چاہیئے، سی ای سی کے متعدد ارکان نے حکومت کو مہلت دینے کی مخالفت کی ہے تاہم آصف زرداری کی درخواست پر سی ای سی نے حکومت کو مہلت کی منظوری دی، پیپلز پارٹی کی سی ای سی کا آئندہ اجلاس حکومت کو مہلت پوری ہونے پر ہوگا، ایک ماہ میں تحفظات دور نہ ہونے پر سی ای سی بڑے فیصلے لے گی۔ خصوصی رپورٹ
پیپلز پارٹی کے مرکزی مجلس عاملہ (سی ای سی) اجلاس کی اندرونی کہانی منظر عام پر آگئی۔ ذرائع کے مطابق مرکزی مجلس عاملہ کا حکومت کے ساتھ اتحاد پر تفصیلی غور کیا گیا، اس موقع پر سی ای سی میں حکومت سے اتحاد خاتمہ کا مطالبہ سامنے آیا ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ سی ای سی اراکین وفاق، پنجاب حکومت، ن لیگ کے رویہ پر کھل کر برسے، سی ای سی میں خیبر پختونخوا، پنجاب کے اراکین کی جذباتی گفتگو ہوئی، آصف زرداری، بلاول بھٹو اراکین کی جذباتی گفتگو سن کر مسکرائے۔
ذرائع کے مطابق اراکین نے کہاکہ پارٹی قیادت حکم دے وفاق، پنجاب میں ن لیگ کو تگنی کا ناچ نچا دیں، ن لیگ بار بار کی سیاسی ٹھوکروں کے باوجود کچھ نہیں سیکھ سکی، پی پی قیادت چٹکی بجا کر وفاق، پنجاب میں حکومت گرا سکتی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سی ای سی رکن نے پیپلزپارٹی کی عزت نفس پر سمجھوتہ نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ سی ای سی اراکین نے کہا کہ پی پی، بلاول بھٹو کی عزت سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
ذرائع کے مطابق سی ای سی اراکین نے کہا کہ اتحاد پیپلز پارٹی نہیں ن لیگ کی ضرورت ہے، آصف زرداری، بلاول بھٹو کی سی ای سی کو حکومت سے مذاکرات پر بریفنگ بھی دی گئی، بلاول بھٹو نے سی ای سی کو وزیراعظم سے ملاقات بارے اعتماد میں لیا۔ سی ای سی کی وزیراعظم کے سامنے جاندار موقف رکھنے پر بلاول بھٹو کی تعریف کی گئی، سی ای سی کے متعدد اراکین نے حکومتی اتحاد سے نکلنے کا مطالبہ کیا، حکومتی اتحاد سے نکلنے کا مطالبہ خیبرپختونخوا، پنجاب کے اراکین نے کیا، حکومت سے اتحاد پیپلزپارٹی کیلئے سیاسی خودکشی سے کم نہیں ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اراکین نے کہا کہ پیپلز پارٹی قیادت حکومت میں باضابطہ شامل ہو یا اتحاد ختم کرے، آصف زرداری نے سی ای سی کو وزیراعظم سے ملاقات کی بریفنگ دی بتایا کہ وزیراعظم نے تحفظات دور کرنے کا یقین دلایا ہے۔ ذرائع کے مطابق آصف زرداری نے کہا کہ پاور شیئرنگ فارمولے پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، آصف زرداری نے سی ای سی سے حکومت کو مہلت دینے کی درخواست کی۔
ذرائع کے مطابق آصف زرداری نے کہا کہ حکومت کو مطالبات پورے کرنے کیلئے ایک ماہ مہلت دی جانی چاہیئے، سی ای سی کے متعدد ارکان نے حکومت کو مہلت دینے کی مخالفت کی ہے تاہم آصف زرداری کی درخواست پر سی ای سی نے حکومت کو مہلت کی منظوری دی۔ ذرائع نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی سی ای سی کا آئندہ اجلاس حکومت کو مہلت پوری ہونے پر ہوگا، ایک ماہ میں تحفظات دور نہ ہونے پر سی ای سی بڑے فیصلے لے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے حکومت کو مہلت ذرائع کے مطابق اراکین نے کہا پیپلز پارٹی پر سی ای سی بلاول بھٹو نے کہا کہ پارٹی کی ایک ماہ مہلت دی ہونے پر
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔