انڈر 19 ایشیا کپ کیلیے پاکستان کے اسکواڈ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
پاکستان نے انڈر 19 ایشیا کپ کے لیے اسکواڈ کا اعلان کردیا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق فرحان یوسف اے سی سی انڈر 19 ایشیا کپ میں پاکستان کی قیادت کریں گے اور عثمان خان نائب کپتان ہوں گے۔
ٹورنامنٹ 12 سے 21 دسمبر تک دبئی میں شیڈول ہے جس میں پاکستان گروپ ’اے‘ میں بھارت، کوالیفائر 1 اور کوالیفائر 3 کے ساتھ شامل ہے۔
پاکستان کا پہلا میچ 12 دسمبر کو کوالیفائر 3 کے خلاف سیونز اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔
دوسرا میچ 14 دسمبر کو بھارت کے خلاف آئی سی سی اکیڈمی میں کھیلا جائے گا جبکہ تیسرا گروپ میچ 16 دسمبر کو کوالیفائر 1 کے خلاف شیڈول ہے۔
سیمی فائنل 19 دسمبر کو اور فائنل 21 دسمبر کو کھیلا جائے گا۔
اسکواڈ:
فرحان یوسف (کپتان)، عثمان خان (نائب کپتان)، عبدالسبحان، احمد حسین، علی حسن بلوچ، علی رضا، دانیال علی خان، حمزہ ظہور، حذیفہ احسن، مومن قمر، محمد حذیفہ، محمد صیّام، محمد شایان، نقاب شفیق، سمیر منہاس
سپورٹ اسٹاف میں سرفراز احمد (مینیجر/مینٹور)، شاہد انور (ہیڈ کوچ/بیٹنگ کوچ)، راؤ افتخار (بولنگ کوچ)، منصور امجد (فیلڈنگ کوچ)، ابرار احمد (ٹرینر)، عبیداللہ (فزیو) اور علی حمزہ (اینالسٹ) کے فرائض انجام دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: دسمبر کو
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔