شمالی وزیرستان: سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج کے 7 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر 2 مختلف کارروائیاں کرتے ہوئے بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 7 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پہلی کارروائی میر علی کے علاقے میں کی گئی، جہاں دہشتگردوں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع پر فورسز نے ان کے ٹھکانوں کو گھیر کر آپریشن کیا۔ اس دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں 6 دہشتگرد مارے گئے۔
ترجمان کے مطابق اسپن وام میں کی جانے والی دوسری کارروائی میں ایک مزید دہشتگرد کو ہلاک کیا گیا۔ دونوں کارروائیوں کے دوران ہلاک افراد کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ دہشتگرد سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کے خلاف متعدد وارداتوں میں ملوث تھے۔
فوجی ترجمان کے مطابق علاقے میں دیگر بھارتی حمایت یافتہ خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں اور غیرملکی حمایت یافتہ دہشتگردی کا مکمل سدباب کرنے تک کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔