Islam Times:
2026-07-24@04:31:42 GMT

مقامِ حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا

اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT

مقامِ حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا

اسلام ٹائمز: جب امام حسین علیہ السلام نے خدا کی راہ میں قیام کیا تو انکے مقصد کا محور لوگوں کو خدا کی طرف پلٹانا تھا۔ اسی مقصد کو لے کر حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کربلا کے بعد کا محاذ سنبھالا۔ قید و بند کی صعوبتیں، یزید کے دربار کی طنز آمیز فضا اور شام کی اجنبی گلیاں۔ کچھ بھی آپکے عزم و یقین کو متزلزل نہ کرسکا۔ آپ نے ہر مصیبت کو قربتِ الہیٰ کا وسیلہ سمجھا، ہر زخم کو رضائے خدا کا تحفہ جانا اور اپنے عمل سے ثابت کیا کہ حسین علیہ السلام کا پیغام صرف کربلا میں نہیں رکا بلکہ زینب کے لہجے سے زندہ ہوا۔ اسی استقامت و شجاعت کے سبب آپکو تاریخ نے "شریکۃُ الحسین" کے مقدس لقب سے یاد کیا۔ وہ شریک جو قیامِ حسین(ع) کی روح، مقصد اور پیغام کی محافظ بنی۔ ترتیب و تحریر: آغا زمانی

حضرت زینب کبریٰ سلامُ اللہ علیہا کی معرفت کے لیے یہی ایک جملہ کافی ہے کہ آپ کی تربیت پیغمبرِ اعظم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور سیدۂ نساء العالمین حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا جیسے معصومین کے زیرِ سایہ ہوئی۔ ایسی پاکیزہ تربیت نے آپ کی ذات کو عصمت و طہارت کے نور سے منور کر دیا۔ اگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ذات نہ ہوتی تو کربلا کا پیغام آج تک زندہ نہ رہتا۔ امامِ مظلوم حضرت حسین علیہ السلام نے جب میدانِ کربلا میں اپنی بہن سے وداع لیا تو فرمایا: "بہن۔۔ مجھے نمازِ شب کی دعاؤں میں یاد رکھنا۔" یہ جملہ آپ کی عبادت، صبر اور بندگیِ الہیٰ کے بلند مقام کی طرف اشارہ ہے۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: "آپ عالمۂ غیرِ معلَّمہ ہیں۔" یعنی ایسا علم جو کسی ظاہری مدرسے سے حاصل نہیں کیا گیا، بلکہ خداوندِ متعال نے آپ کو علمِ لدنی عطا فرمایا۔ جس طرح معصومین علیہم السلام کا علم الہیٰ سرچشمے سے متصل ہے، اسی طرح حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو بھی علمِ ربانی سے حصہ عطا ہوا۔ آج کے علماء اور دانشور اگرچہ اپنے مقام پر محترم ہیں، مگر کسی صورت ائمہ معصومین یا حضرت زینب جیسی ہستیوں کے علم و عرفان کا موازنہ ان سے ممکن نہیں۔

سیرتِ حضرت زینب سلام اللہ علیہا
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی زندگی صبر، عفت، علم، شجاعت اور خدا پر کامل ایمان کا آئینہ ہے۔ آپ نے اپنے والد علی علیہ السلام کی شجاعت، والدہ فاطمہ سلامُ اللہ علیہا کی طہارت اور نانا رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت کو اپنی ذات میں جمع کر لیا۔ آپ نے ہمیں یہ درس دیا کہ ایمان صرف عبادت کا نام نہیں، بلکہ حق کے سامنے ڈٹ جانے، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور دین کی بقا کے لیے ہر قربانی دینے کا نام ہے۔

شریکۃُ الحسین سلام اللہ علیہا
جب امام حسین علیہ السلام نے خدا کی راہ میں قیام کیا تو ان کے مقصد کا محور لوگوں کو خدا کی طرف پلٹانا تھا۔ اسی مقصد کو لے کر حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کربلا کے بعد کا محاذ سنبھالا۔ قید و بند کی صعوبتیں، یزید کے دربار کی طنز آمیز فضا اور شام کی اجنبی گلیاں۔ کچھ بھی آپ کے عزم و یقین کو متزلزل نہ کرسکا۔ آپ نے ہر مصیبت کو قربتِ الہیٰ کا وسیلہ سمجھا، ہر زخم کو رضائے خدا کا تحفہ جانا اور اپنے عمل سے ثابت کیا کہ حسین علیہ السلام کا پیغام صرف کربلا میں نہیں رکا بلکہ زینب کے لہجے سے زندہ ہوا۔

اسی استقامت و شجاعت کے سبب آپ کو تاریخ نے "شریکۃُ الحسین" کے مقدس لقب سے یاد کیا۔ وہ شریک جو قیامِ حسین(ع) کی روح، مقصد اور پیغام کی محافظ بنی۔ یہی ہے مقامِ حضرت زینب کبریٰ سلامُ اللہ علیہا۔ ایک ایسی ہستی، جن کی معرفت، سیرت اور قربانیوں سے ہم آج بھی صبر، غیرت، ایمان اور عملِ صالح کا سبق حاصل کرتے ہیں۔ ان کی زندگی ہم سب کے لیے عملی نمونہ اور دائمی رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حضرت زینب سلام اللہ علیہا حسین علیہ السلام علیہ السلام نے اللہ علیہا کی خدا کی

پڑھیں:

عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران

پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟

وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔

سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔

مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟

رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔

سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔

سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔

مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ

متعلقہ مضامین

  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس