Islam Times:
2026-06-03@06:39:51 GMT

مقامِ حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا

اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT

مقامِ حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا

اسلام ٹائمز: جب امام حسین علیہ السلام نے خدا کی راہ میں قیام کیا تو انکے مقصد کا محور لوگوں کو خدا کی طرف پلٹانا تھا۔ اسی مقصد کو لے کر حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کربلا کے بعد کا محاذ سنبھالا۔ قید و بند کی صعوبتیں، یزید کے دربار کی طنز آمیز فضا اور شام کی اجنبی گلیاں۔ کچھ بھی آپکے عزم و یقین کو متزلزل نہ کرسکا۔ آپ نے ہر مصیبت کو قربتِ الہیٰ کا وسیلہ سمجھا، ہر زخم کو رضائے خدا کا تحفہ جانا اور اپنے عمل سے ثابت کیا کہ حسین علیہ السلام کا پیغام صرف کربلا میں نہیں رکا بلکہ زینب کے لہجے سے زندہ ہوا۔ اسی استقامت و شجاعت کے سبب آپکو تاریخ نے "شریکۃُ الحسین" کے مقدس لقب سے یاد کیا۔ وہ شریک جو قیامِ حسین(ع) کی روح، مقصد اور پیغام کی محافظ بنی۔ ترتیب و تحریر: آغا زمانی

حضرت زینب کبریٰ سلامُ اللہ علیہا کی معرفت کے لیے یہی ایک جملہ کافی ہے کہ آپ کی تربیت پیغمبرِ اعظم حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام اور سیدۂ نساء العالمین حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا جیسے معصومین کے زیرِ سایہ ہوئی۔ ایسی پاکیزہ تربیت نے آپ کی ذات کو عصمت و طہارت کے نور سے منور کر دیا۔ اگر حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی ذات نہ ہوتی تو کربلا کا پیغام آج تک زندہ نہ رہتا۔ امامِ مظلوم حضرت حسین علیہ السلام نے جب میدانِ کربلا میں اپنی بہن سے وداع لیا تو فرمایا: "بہن۔۔ مجھے نمازِ شب کی دعاؤں میں یاد رکھنا۔" یہ جملہ آپ کی عبادت، صبر اور بندگیِ الہیٰ کے بلند مقام کی طرف اشارہ ہے۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: "آپ عالمۂ غیرِ معلَّمہ ہیں۔" یعنی ایسا علم جو کسی ظاہری مدرسے سے حاصل نہیں کیا گیا، بلکہ خداوندِ متعال نے آپ کو علمِ لدنی عطا فرمایا۔ جس طرح معصومین علیہم السلام کا علم الہیٰ سرچشمے سے متصل ہے، اسی طرح حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو بھی علمِ ربانی سے حصہ عطا ہوا۔ آج کے علماء اور دانشور اگرچہ اپنے مقام پر محترم ہیں، مگر کسی صورت ائمہ معصومین یا حضرت زینب جیسی ہستیوں کے علم و عرفان کا موازنہ ان سے ممکن نہیں۔

سیرتِ حضرت زینب سلام اللہ علیہا
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی زندگی صبر، عفت، علم، شجاعت اور خدا پر کامل ایمان کا آئینہ ہے۔ آپ نے اپنے والد علی علیہ السلام کی شجاعت، والدہ فاطمہ سلامُ اللہ علیہا کی طہارت اور نانا رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمت کو اپنی ذات میں جمع کر لیا۔ آپ نے ہمیں یہ درس دیا کہ ایمان صرف عبادت کا نام نہیں، بلکہ حق کے سامنے ڈٹ جانے، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے اور دین کی بقا کے لیے ہر قربانی دینے کا نام ہے۔

شریکۃُ الحسین سلام اللہ علیہا
جب امام حسین علیہ السلام نے خدا کی راہ میں قیام کیا تو ان کے مقصد کا محور لوگوں کو خدا کی طرف پلٹانا تھا۔ اسی مقصد کو لے کر حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے کربلا کے بعد کا محاذ سنبھالا۔ قید و بند کی صعوبتیں، یزید کے دربار کی طنز آمیز فضا اور شام کی اجنبی گلیاں۔ کچھ بھی آپ کے عزم و یقین کو متزلزل نہ کرسکا۔ آپ نے ہر مصیبت کو قربتِ الہیٰ کا وسیلہ سمجھا، ہر زخم کو رضائے خدا کا تحفہ جانا اور اپنے عمل سے ثابت کیا کہ حسین علیہ السلام کا پیغام صرف کربلا میں نہیں رکا بلکہ زینب کے لہجے سے زندہ ہوا۔

اسی استقامت و شجاعت کے سبب آپ کو تاریخ نے "شریکۃُ الحسین" کے مقدس لقب سے یاد کیا۔ وہ شریک جو قیامِ حسین(ع) کی روح، مقصد اور پیغام کی محافظ بنی۔ یہی ہے مقامِ حضرت زینب کبریٰ سلامُ اللہ علیہا۔ ایک ایسی ہستی، جن کی معرفت، سیرت اور قربانیوں سے ہم آج بھی صبر، غیرت، ایمان اور عملِ صالح کا سبق حاصل کرتے ہیں۔ ان کی زندگی ہم سب کے لیے عملی نمونہ اور دائمی رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حضرت زینب سلام اللہ علیہا حسین علیہ السلام علیہ السلام نے اللہ علیہا کی خدا کی

پڑھیں:

واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار

واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔

یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.

???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS

— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026

تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی

اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن

متعلقہ مضامین

  • واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر