باغوں کا شہر لاہور ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر آگیا۔
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہر وں میں پہلے نمبرپر آگیا۔انوائرمینٹل پروٹیکشن ایجنسی کے مطابق لاہور کا ائیرکوالٹی انڈیکس 332 پر پہنچ گیا اور فیصل آباد میں ائیرکوالٹی انڈیکس 325 ہے۔اس کے علاوہ شیخوپورہ 311، ڈی جی خان 239، گوجرانوالہ 233 اور ملتان کا اے کیو آئی 224 ہے۔پیر کی صبح علی الصبح لاہور کا ائیر کوالٹی انڈیکس انتہائی خراب ہونے سے لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہوا۔ ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ پاکستان کی درجہ بندی کے مطابق 0 سے 100 تک انڈیکس کو سبز اور مثبت جبکہ 101 سے 200 تک انڈیکس کو قدر آلودہ مگر قابل برداشت کی کیٹیگری میں رکھا گیا ۔300 سے 500 کے درمیان انڈیکس آلودہ اور انتہائی آلودہ کی کیٹیگری میں آتے ہیں اور ایسے میں طویل مدت تک فضائی آلودگی کی صورت میں دل اور پھیپھڑوں کے مریضوں کو سانس لینے میں مشکل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ کی درجہ بندی میں بتایا گیا کہ ائیر کوالٹی انڈیکس 500 سے زیادہ ہونے کا مطلب فضا شدید آلودہ ہے اور اس کے اثرات صحت مند افراد پر بھی پڑسکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔