پاسپورٹ کیس: تنویر الیاس کی حاضری معافی کی درخواست منظور
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے ڈپلومیٹک پاسپورٹ کے استعمال کے کیس میں سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کر لی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ احمد شہزاد گوندل نے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کیخلاف ڈپلومیٹک پاسپورٹ کے استعمال کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت سردار تنویر الیاس کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
سردار تنویر الیاس کی عدم دستیابی کے باعث استغاثہ کی شہادتیں ریکارڈ نہ ہو سکی، عدالت نے اگلی سماعت پر استغاثہ کے گواہان کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 31 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔
آج دیوالی ، پنجاب حکومت نےسرحد پار سے آلودگی کے خطرات پر اینٹی سموگ گنز تیار کر لیں
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: سردار تنویر الیاس کی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔